’شمالی کوریا نے فوجی ہاٹ لائن منقطع کر دی‘

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے فوجی روابط کے خاتمے کے سلسلے میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے ایک ملٹری ہاٹ لائن منقطع کر دی ہے۔

پیانگ یانگ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کو جدا کرنے والے غیر عسکری علاقے کے شمال میں واقع اس صنعتی ادارے کے لیے قائم کردہ ہاٹ لائن ختم کی گئی ہے جس کا انتظام دونوں ممالک مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔

یہ فیصلہ شمالی کوریا کی جانب سے دورمار میزائلوں کو بحرالکاہل میں واقع امریکی بحری اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیے جانے کے اگلے دن کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی نو منتخب صدر پارک گیون ہین کی جانب سے اپنے جوہری عزائم ختم کرنے اور رویہ بدلنے کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’خوفناک تباہی‘ سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اپنانے کو بھی کہا ہے۔

جنوبی کوریا نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شمالی کوریا کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیوں کی صورتحال میں اس کے خلاف دونوں مشترکہ کارروائی کریں گے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے مزید پابندیوں کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تین برس قبل جنوبی کوریا کے ایک جنگی بحری جہاز کے ڈوبنے کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر پارک گیون ہین نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے پاس اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

Image caption شمالی کوریا کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے

واضح رہے کہ اس سے قبل پیر کو جنوبی کوریا کی وزرات دفاع نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی’اشتعال انگیز‘ کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئے فوجی منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔

حکام کے مطابق نئے منصوبے کے تحت اگر شمالی کوریا کی جانب سے کوئی بھی محدود حملہ ہوتا ہے تو جنوبی کوریا اور امریکہ اس کا مشترکہ جواب دیں گے۔

امریکہ کے جنوبی کوریا میں اٹھائیس ہزار فوجی تعینات ہیں لیکن ابھی تک ان امریکی فوجیوں کی خدمات صرف چھوٹی کارروائیوں تک ہی محدود ہیں۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کم من سیوک نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا ’نیا فوجی منصوبہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائی کی صورت میں امریکہ اور جنوبی کوریا اس کا مشترکہ طور پر جواب دے گے۔ جوابی کارروائی کی قیادت جنوبی کوریا کرے گا لیکن اس کو امریکہ کی مدد حاصل ہوگی۔‘

اس منصوبے کے تحت شمالی کوریا کی جن ’اشتعال انگیز‘ کارروائیوں سے نمٹا جائے گا اس میں سرحدی دراندازی، اور سرحدی جزیروں پر حملے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے تعلقات درمیان گزشتہ کچھ مہینوں سے کشیدہ ہیں اور وہ ایک دوسرے پر اشتعال انگیز کارروائیوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں لیکن گزشتہ ماہ شمالی کوریا کی جانب سے تیسرے جوہری تجربے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سیول میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیم سن کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے کے تحت جنوبی کوریا شمالی کوریا کی جانب سے حملے یا حملے کی دھمکیوں کی صورتحال میں امریکہ کی مدد حاصل کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں