امریکی فوجیوں پر حملہ آور ہیرو بن گيا

ثمرالدین
Image caption ثمرالدین کے پوسٹروں تصویروں میں انھیں بطور ہیرو پیش کیا جاتا ہے

افغانستان میں سرحدی پولیس کے جس نوجوان ملازم ثمرالدین نے دو امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا تھا انھیں ان کی برادری میں ہیرو کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار فیروز رحیمی اور جانیس ڈیل نے ان کے گھر جا کر اس بات کا جائزہ لیا کہ آخر انھوں نے امریکی فوجیوں پر گولی کیوں چلائي تھی۔

چار اپریل 2011 میں فاریاب صوبے میں تعینات ثمرالدین نے دو امریکی فوجیوں پر گولی چلائی تھی اور پھر فرار ہوگئے تھے۔

2007 سے افغانستان میں بیرونی ممالک کی فوج پر افغانی سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ایسے حملوں کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں اب تک ایک سو سے زیادہ فوجی مارے جا چکے ہیں۔

حملے کے تین برس بعد ثمرالدین پکڑے گئے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی تھی ’لیکن جس مکان میں وہ چھپے تھے وہاں سے فرار کی کوشش میں انہیں گولی ماری گئی جس میں وہ ہلاک ہوگئے۔‘

ثمرالدین نے جن دو امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا تھا اس میں سے ایک بتیس برس کے سارجنٹ سکاٹ برگيس اور دوسرے 26 سالہ مائیکل لیمدٹس تھے۔ دونوں فوجی افغانستان میں دو ماہ سے ڈیوٹی پر تھے اور انہیں بڑا ہی ہونہار فوجی بتایا جاتا ہے۔

ثمرالدین کے بھائی قمرالدین کو وہ واقعہ اچھی طرح یاد ہے۔ انہوں نے صبح فائرنگ کی آواز سنی تھی۔ ’میں بہت فکرمند تھا اور میں نے پتا کرنے کے لیے ثمرالدین کو فون کیا۔ اس نے پہلی گھنٹی ہی پر فون اٹھا لیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ان کے اڈے پر کیا کسی نے دو امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے؟

’اس نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟ میں نے اسے بتایا کہ میں بازار میں ہوں۔ اس نے کہا شہر چھوڑ دو، یہ میں نے ہی کیا ہے۔ میں ششدر رہ گيا اور جو وہ کہہ رہا تھا مجھے اس پر یقین نہیں آیا۔‘

اس طرح کے حملوں کے بعد اپنا ریکارڈ پیچے چھوڑ کر فرار ہونا غیر معمولی بات ہے۔ لیکن ثمرالدین ایسا کر گزرے اور اپنے خاندان سے بھی آملے۔

ان کے چچا زاد بھائی غلام کہتے ہیں کہ یہ خبر ملتے ہی وہ گھر بھاگے تو ثمرالدین کو وہاں جذباتی اور گھبرایا ہوا پایا۔ جب میں اس کے قریب گيا تو وہ رونے لگا۔ میں نے اس کی پیشانی کو بوسہ دیا اور کہا کہ رو مت۔‘

یہ واقعہ اسی ہفتے کا ہے جب امریکہ میں ایک چرچ کی جانب قرآن جلانے کی خبر سے پورے افغانستان میں لوگ مشتعل تھے اور افراتفری کا ماحول تھا۔

Image caption ثمرالدین کی قبر کی لوگ زیارت کرنے آتے ہیں

اس بارے میں جو غلام نے بتایا اس سے پتا چلتا ہے کہ ثمرالدین نے آخر ایسا کیوں کیا ہوگا۔’میں نے اس سے کہا آپ نے انہیں اپنے مذہب کی وجہ سے قتل کیا تو اس پر فخر کرنا چاہیے۔ ہم سب بہت غصے میں تھے۔‘

ممکن ہے کہ باہری دنیا کے لیے اس طرح کے جذبات اور احساسات حیران کن ہوں، لیکن ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے دوست و احباب اور پڑوسی بھی اس بارے میں انہیں کی طرح سوچتے ہیں۔

اس کے خلاف افغانستان میں احتجاجی مظاہرے ہورہے تھے جو مزار شریف جیسے صوبے میں تشدد کا رخ اختیار کرگئے تھے جہاں ہجوم نے کئی بیرونی کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ثمرالدین اس سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ ان کے دوسرے بھائی نور محمد کہتے ہیں کہ ثمرالدین نے مظاہروں میں کئی بار حصہ لیا تھا اور ملاؤں کی جانب سے مساجد کے جلسوں میں بھی شریک ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’ملاّ نے کہا کہ جیسے ثمرالدین نے قرآن جلانے کے واقعے کو سنا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ وہ اتوار کا دن تھا۔ پھر دوسرے روز پیر کو انہوں نے دو امریکیوں کو ہلاک کر دیا۔ ہر شخص کو معلوم ہے کہ ثمرالدین شہید ہیں۔ انہوں نے اپنے مذہب اور قرآن کے لیے زندگی قربان کر دی۔‘

Image caption ان کے نام پر ایک مقامی مسجد کا نام بھی رکھا گیا ہے

خاندان کا کہنا ہے کہ مسجد میں چھپنے سے پہلے وہ ایک دن گھر میں ہی روپوش رہے۔ پھر وہاں سے انہوں نے ایک دوست کی مدد سے اپنی روپوشی کے لیے ایک خفیہ مکان تلاش کیا جہاں نیٹو افواج نے ان کا سراغ لگا لیا۔

خاندان ہی کی طرح بہت سے دیگر لوگ بھی ثمرالدین کو ہیرو ہی سمجھتے ہیں اور ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔

ان کے ایک چچا نصیرالدین کہتے ہیں ’لوگوں کے ہجوم سے دریا کا کنارہ بھر گیا تھا۔ یقین نہیں آتا تھا۔‘

مقامی قبرستان میں ثمرالدین کی قبر پر شاندار چادر چڑھی ہوئي ہے جس پر عربی میں بہت سی آيتیں اور شاعری بھی لکھی ہے جو ان کی نذر کی گئی ہیں۔ اب یہ جگہ زيارت گاہ بن گئی ہے۔

ان کے چچا کے مطابق عوام کے کہنے پر ایک مقامی مسجد کا نام بھی ان کے نام پر رکھا گيا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اس پر سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ جس نے اتحادی فوجیوں کو گولی مار دی، وہ ہیرو کیسے بن سکتا ہے۔

ایک مقامی عالم عبدالمومن مکریت کہتے ہیں کہ اس فوجی پر حملے کا کوئي جواز نہیں جو ملک کی مدد کرنے آیا ہو۔ ’وہ یہاں ہماری مدد کے لیے آئے ہیں۔ ہمیں جو وہ کر رہے ہیں اسے سراہنا چاہیے۔‘

ثمرالدین کی ماں اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بیٹے کو پولیس کی ملازمت سے بہت منع کیا تھا لیکن وہ مانا نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے کہا کہ اگر تم اپنا کام نہیں چھوڑو گے تو میں بارڈر پولیس جا کر خود کو مار لوں گی لیکن اس نے 22 ماہ تک کام کیا۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کی پرورش کی تھی لیکن آخر میں ہم نے اسے کھو دیا۔‘

ثمرالدین کے گھر پر لوگ جب ملنے آتے ہیں تو انہیں ہیرو کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اس جگہ دس برس تک رہے اور عام لڑکوں کی طرح ہی تھے۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ بچپن میں کسی قدر شرارتی تھے اور انھیں فٹبال کا شوق تھا لیکن وہ لکھنے پڑھنے کے زیادہ شوقین نہیں تھے۔

اسی بارے میں