ہم جنس شادیوں پر پابندی، سپریم کورٹ کی تنقید

امریکہ میں ہم جنس پرستوں کی ایک ریلی کی تصویر
Image caption ڈوما کے تحت شادی صرف عورت اور مرد کے درمیان ہوسکتی ہے

امریکی سپریم کورٹ میں ہم جنس شادیوں کی آئینی حیثیت پر بحث کے دوران بیشتر ججوں نے شادی کے دفاع کے قانون (ڈوما) پر سخت تنقید کی ہے۔

’ڈوما‘ کے تحت ہم جنس شادیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔انیس سو چھیانوے میں منظور ہونے والے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ شادی صرف عورت اور مرد کے درمیان ہو سکتی ہے۔

بحث کے دوران نو میں سے پانچ ججوں نے ڈوما کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں۔اس معاملے پر عدالتی فیصلہ جون دو ہزار تیرہ تک متوقع ہے۔

قانونی ماہرین نے پہلے ہی پیشنگوئی کی تھی کہ ڈوما پر بحث کے دوران اس پر زبردست تنقید کی جائے گی۔

اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ کے اجلاس میں ان مقدمات کی سماعت کی گئی، جن میں شادی کے دفاع کے قانون (ڈوما) کے خلاف ایک مقدمہ بھی شامل تھا۔

اس کے ساتھ سپریم کورٹ کیلی فورنیا میں ہم جنس شادیوں پر پابندی سے متعلق بھی فیصلہ سنا سکتی ہے۔ اس بارے میں منگل کو عدالت میں بحث ہوئی تھی۔

بدھ کو تقریبا دو گھنٹے تک واشنگٹن ڈی سی میں سپریم کورٹ کے جسٹس نے وکلاء سے ڈوما کی آئینی حیثیت سے متعلق زبردست بحث کی۔ ان میں سے پانچ ججوں نے ڈوما کی آئینی حیثیت پر سوالات اٹھائے۔

ان میں سے ایک جج سونیا سوٹومئیر کا کہنا تھا ’حکومت یہ حق کون دیتا ہے کہ کو اس بات کا فیصلہ کرے کے شادی کی صحیح تعریف کیا ہے۔‘ وہیں چیف جسٹس جان رابرٹس کا کہنا تھا کہ کہ صدر براک اوباما نے اس بارے میں اپنی سوچ کا نفاذ کرتے ہوئے اس قانون پر پابندی لگانے کی ہمت کیوں نہیں دکھائی۔

واضح رہے کہ صدر براک اوباما نے مئی میں ہم جنس شادی کی حمایت کی تھی۔ انھوں نے یہ کہہ کر ایک غیرمعمولی قدم اٹھایا تھا کہ ان کی حکومت عدالت میں ڈوما کی حمایت نہیں کرے گی۔

امریکہ کی پچاس میں سے اکتیس ریاستوں نے آئینی تبدیلیوں کے تحت ہم جنس شادی پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ واشنگٹن ڈی سی اور نو ریاستوں میں اسے قانونی درجہ حاصل ہے۔

سپریم کورٹ کے سامنے تمام ممکنہ مقدمات کا تعلق تین قوانین سے ہے:

ڈوما، جو ہم جنس شادی شدہ جوڑوں کو شادی کے وفاقی فوائد حاصل کرنے سے روکتا ہے۔شق نمبر آٹھ، کیلی فورنیا کے ریاستی آئین میں ترمیم جس نے ایک سابقہ قانون کو ساقط کر دیا تھا جس میں ہم جنس شادی کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔ریاست ایری زونا کے 2009 کے قانون کا ایک جزو جس میں شادی کے فوائد صرف قانونی طور پر شادی شدہ افراد کو تفویض کیے گئے تھے (ایری زونا میں ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے)۔

ان میں سے ہر قانون کو نچلی عدالتوں نے ساقط قرار دے دیا تھا۔

عدالت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ہم جنسوں کو بھی شادی کا حق دیا جائے کیوں کہ یہ امریکی آئین کے تحت ایک بنیادی حق ہے جو تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

اس وفاقی قانون کو، جس پر امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے دستخط کیے تھے، چار وفاقی عدالتیں اور دو اپیل کورٹس ساقط قرار دے چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈوما ہم جنس جوڑوں کے خلاف امتیازی سلوک کرتا ہے۔

صدر اوباما اس قانون کی حمایت نہیں کرتے ہیں تاہم کانگریس میں ری پبلکن پارٹی اس قانون کی پشت پناہی کرتی ہے۔

جمعہ کے روز رائے عامہ کے ایک جائزے سے پتا چلا کہ اکیاون فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ہم جنس شادی کو قانونی درجہ ملنا چاہیے، جب کہ چالیس فیصد اس کے خلاف تھے۔

اسی بارے میں