تبت: کان کنوں کے زندہ بچنے کی امید معدوم

Image caption پولیس کے مطابق مٹی کا تودہ چار مربع کلومیٹر کے رقبے پر گرا جس نے کئی کمروں یا مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

چین کے علاقے تبت میں مٹی کے تودے کے نیچے دبے 80 سے زائد کانکنوں کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

چینی میڈیا نے امدادی کاموں میں مصروف ایک کارکن کا بیان نشر کیا ہے کہ جس میں متاثرین کے نہ بچنے کی بات کی گئی ہے۔

کارکن کا کہنا تھا کہ ’جس بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرے ہیں اس سے کان کنوں کے بچنے کے امکانات نہ کے برابر ہیں۔‘

تبت کے دارالحکومت لہاسہ کے قریب واقع اس کان کے ساتھ ہی کان کنوں کی رہائشی کالونی تھی جس پر گرنے والے مٹی کے تودے نے کئی کان کنوں کے گھروں کو ملیا میٹ کر دیا۔

ایک ہزار سے زیادہ امدادی کارکن بھاری مشینری کے ساتھ گرنے والے منوں پتھر اور ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔

ان امدادی کارکنوں کی مدد کے لیے سونگھنے والے کتے اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے مگر اب تک کوئی کامیابی نہیں حاصل ہوئی ہے۔

یہ کان سطح سمندر سے پندرہ ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے اس لیے یہاں امدادی کاموں میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی زنہوا کے مطابق موسم کی خرابی سے بھی امدادی کاموں مشکلات کا سامنا ہے۔ ’اس علاقے میں درجۂ حرارت تقریباً تین ڈگری ہے جس سے کتوں کے سونگھنے کی صلاحیت متاثر ہوئي ہے۔‘

اس کان کی مالک چین کی سرکاری سونا نکالنے والی کمپنی ’چائنا نیشنل گولڈ گروپ‘ ہے جو چین میں کانوں میں سے سونا نکالنے کی بڑی کمپنی ہے۔

Image caption تودے کے حجم اور وقت گزر جانے کی وجہ سے کسی کے بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں

یہ مٹی کا تودہ اس وقت گرا جب کان کن دن بھر کے کام کے بعد اپنے کمروں میں سو رہے تھے۔چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق زیادہ تر کان کن ہان چینی ہیں جبکہ دو تبت کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق مٹی کا تودہ چار مربع کلومیٹر کے رقبے پر گرا جس نے کئی کمروں یا مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چین کے حال ہی میں منتخب کیے جانے والے صدر شی جن پنگ نے حکام سے کہا ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کہتے ہیں کہ تودے کے حجم اور اتنا وقت گزر جانے کے بعد کسی کے زندہ بچ نکلنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

خبررساں ادارے زنہوا نے کہا کہ مائژوکنگر کاؤنٹی میں کان کنوں کا کیمپ ملبے تلے دب گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منہدم شدہ علاقے کا رقبہ چار مربع کلومیٹر کے قریب ہے۔

چینی حکام کا خیال ہے کہ سطحِ مرتفع تبت وسیع قدرتی وسائل سے مالامال ہے، جن میں تانبے، سیسے، جست اور لوہا شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چینی حکومت تبت کے قدرتی وسائل کو لوٹنا چاہتی ہے، جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس خطے میں سرمایہ کاری کر کے عام تبتیوں کے معیارِ زندگی میں بہتری لا رہی ہے۔

اسی بارے میں