کوریا: ’فریقین خطرناک تصادم سے گریز کریں‘

روس اور چین نے خبردار کیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں فریقین ممکنہ طور پر خطرناک تصادم سے گریز کریں۔

دونوں ممالک کی جانب سے یہ اپیل اس دھمکی کے بعد آئی ہے جس میں شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے جزیرہ نما کوریا پر امریکی ’سٹیلتھ‘ بمبار طیاروں کی پروازوں کے جواب میں اپنے میزائل یونٹوں کو امریکی اہداف پر حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

روس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ صورتحال تباہی کی جانب جا سکتی ہے۔

چین اور روس شمالی کوریا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں اور دونوں نے فوری طور پر فریقین سے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’ہو سکتا ہے کہ ہم صورتحال کو قابو سے باہر جانے دے سکتے ہیں اور یہ ایک پیچ دار تباہی کے چکر کی جانب جا سکتی ہے‘۔

روسی وزیر ِخارجہ نے شمالی کوریا کے بیان کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے جہاں اس کی مذمت کی، وہیں عام زبان میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ’شمالی کوریا کے اردگرد یک طرفہ اقدامات اٹھانے کے نتیجے میں وہ عسکری سرگرمیوں کو بڑھانے کا اظہار کریں گے‘۔

Image caption بی 2 بمبار طیاروں کی پروازیں ایک ’الٹی میٹم‘ تھا: شمالی کوریا

اس سے پہلے شمالی کوریا نے کہا کہ اس نے جزیرہ نما کوریا پر امریکی ’سٹیلتھ‘ بمبار طیاروں کی پروازوں کے جواب میں اپنے میزائل یونٹوں کو امریکی اہداف پر حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ملک کے قائد کم جونگ ان نے اس حکم نامے پر جمعرات کو رات گئے ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات کے بعد دستخط کر دیے ہیں۔

اس حکم کے تحت شمالی کوریا کے تمام میزائل اور راکٹ یونٹوں کو جمعرات کی رات سے کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔

کے سی این اے کی رپورٹ کے مطابق ’کم جونگ ان نے آخرِ کار شمالی کوریا نے سٹریٹیج راکٹوں کی تکنیکی تیاری کے منصوبے پر دستخط کر دیے جس کے تحت انہیں کسی بھی وقت فائر کرنے کے لیے تیار کرنے کو کہا گیا ہے۔‘

خبر رساں ادارے کے مطابق اس موقع پر کم جونگ ان نے کہا کہ بی 2 بمبار طیاروں کی پروازیں ایک ’الٹی میٹم‘ تھا اور ’حساب برابر کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘

کم جونگ ان نے کہا کہ ’اگر انہوں نے اس قسم کی اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے تو کوریا کی عوامی فوج کو امریکی سرزمین، ان کے مضبوط ٹھکانوں اور بحرالکاہل میں ہوائی اور گوام اور جنوبی کوریا میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو بےرحمانہ انداز میں نشانہ بنانا چاہیے۔‘

امریکہ کے دو ریڈار پر نظر نہ آنے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں نے جمعرات کو جنوبی کوریا اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کے سلسلے میں جزیرہ نما کوریا کے اوپر پروازیں کی تھیں۔

امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ علاقے میں کسی بھی ’واقعے‘ کے لیے تیار ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بی 2 طیارے امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادیوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے اور طویل فاصلوں پر واقع اہداف کو تیزی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت کی نشانی ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع چک ہیگل نے جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ ’شمالی کوریا کو سمجھنا ہو گا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے اس قسم کی اکسانے کی کوششوں کو ہم سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس کا جواب دیا جائے گا۔‘

جنوبی کوریا نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شمالی کوریا کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیوں کی صورتحال میں دونوں مشترکہ کارروائی کریں گے۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے فوجی روابط کے خاتمے کے سلسلے میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے بدھ کو وہ ملٹری ہاٹ لائن بھی منقطع کر دی تھی جو دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطے کا آخری ذریعہ تھی۔

جزیرہ نما کوریا میں حالیہ تناؤ کا آغاز بارہ فروری کو شمالی کوریا کی جانب سے تیسرے جوہری تجربے کے بعد ہوا تھا اور اقوام متحدہ کی جانب سے مزید پابندیوں کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

شمالی کوریا نے اس دوران امریکہ اور جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کی متعدد دھمکیاں دی ہیں جن میں امریکی سرزمین پر جوہری حملے کی دھمکی بھی شامل ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس امریکی سرزمین کو کسی جوہری ہتھیار یا بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں ہے تاہم وہ اپنے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے ایشیا میں واقع کچھ امریکی فوجی اڈوں کو ضرور نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی بارے میں