’افغان امن عمل کی حمایت کے لیے شرائط نہیں رکھیں‘

پاکستان نے افغانستان کے صدارتی ترجمان کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان امن عمل کی حمایت کے لیے اسلام آباد نے کوئی شرائط پیش نہیں کی ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افغان صدارتی ترجمان کے الزامات کو بےبنیاد قرار دیا۔

واضح رہے کہ بی بی سی پشتو سے خصوصی انٹرویو میں افغانستان کے صدارتی ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستانی طالبان کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے اسلام آباد کے پاس اگر شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغان امن کے عمل میں خلوص دل سے مدد کرنا چاہتا ہے ۔

’آج افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان کی جانب سے بیان جاری ہوا ہے کہ پاکستان نے افغان قیام امن کے لیے پیشگی شرائط عائد کی ہیں، جبکہ قطعاً پاکستانی حکومت کے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

افغان صدارتی بیان میں بتائی گئی شرائط کی تفصیلات دیتے ہوئے اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پہلی شرط یہ تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سٹریٹیجک پارٹنر شپ ایگریمنٹ ہونا چاہیے۔

’دراصل یہ تجویز افعان صدر حامد کرزئی کی جانب سے آئی تھی اور ہم نے اس کا خیر مقدم کیا تھا اب وہ پیشگی شرط کیسے بن گئی؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان نے افغانستان سے نہیں کہا کہ وہ ہندوستان سے اپنے تمام تعلقات ختم کرے جبکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغانستان آزاد ملک ہے اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات رکھے۔

’تاہم افغانستان کی سرزمین ان شر پسند عناصر کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال نہ کرنے دیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے افغان مسلح افواج کو تربیت دینے کی پیشکش کو شرط بتایا گیا ہے۔ ’پاکستانی حکومت اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی وضاحت دینا ضروری سمجھتی ہے۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو پاکستان نے افغانستان کے علاقوں کنڑ اور نورستان میں تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔

اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی نے بی بی سی پشتو کو ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستان شدت پسندوں کو دی جانے والی مدد سے توجہ ہٹانے کے لیے اس قسم کے الزامات افغانستان پر لگا رہا ہے۔

صدارتی ترجمان ایمل فیضی نے کہا، ’ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب جو حالات سامنے آئے ہیں، اس وجہ سے دہشت گرد گروہ موجود ہیں اور دونوں ممالک کے عوام پر حملے کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی غلط سیاست کی وجہ سے ہے کہ گذشتہ سالوں کے دوران دہشت گرد اور شدت پسند گروہوں کو افغانستان اور بھارت کے خلاف خطے میں اپنی خارجی سیاست کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب پاکستان سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کون ایسے حالات سامنے لانے کا سبب بنا۔‘

اسی بارے میں