بوسنیا: سرب کمانڈر کو جنگی جرائم پر 45 سال قید

Image caption مونٹی نیگرو سے تعلق رکھنے والے ویسیلین ولاہووچ کو ’گرباوچا کے عفریت‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بوسنیا ہرزیگوینا میں ایک عدالت نے سابق سرب پیراملٹری کمانڈر کو انیس سو بانوے اور پچانوے کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر پینتالیس سال کی قید کی سزا دی ہے۔

ویسیلین ولاہووچ کو ساٹھ سے زیادہ جرائم میں مرتکب پایا گیا جن میں ساراجیو بوسنیائی مسلمانوں اور کروئیٹ شہریوں کے قتل، ریپ اور تشدد کے جرائم شامل ہیں۔

مونٹی نیگرو سے تعلق رکھنے والے ویسیلین ولاہووچ کو ’گرباوچا کے عفریت‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے ان جرائم سے انکار کیا ہے۔ گرباوچا ساراجیو شہر کا مضافاتی علاقہ ہے۔

ولاہووچ کو دی جانے والی سزا بوسنیا کے جنگی جرائم کی عدالت کی جانب سے سب سے لمبی سزا ہے۔

اس فیصلے کا اعلان کرنے میں دو گھنٹے لگے کیونکہ اس مقدمے میں زیرِ سماعت جرائم کی فہرست بہت طویل تھی۔

اپنے اختتامی بیان میں استغاثہ کے وکیل بہجیا کرنجک نے کہا کہ ولاہووچ کا نام بدی کا متبادل ہے اور انہوں نے اکتیس افراد کو ہلاک، چودہ دوسروں کو اغوا کیا جو ابھی تک لاپتا ہیں، جبکہ تیرہ خواتین کو ریپ کیا۔

ان جرائم کا ارتکاب ساراجیو کے تین علاقوں میں مئی اور جولائی انیس سو بانوے کے درمیان کیا گیا جب ان علاقوں پر سرب افواج کا قبضہ تھا ۔

Image caption ولاہووچ چوری کے الزام میں سپین اور قتل کے الزام میں سربیا میں بھی مطلوب ہیں۔

بی بی سی کے بلکان میں نامہ نگار گائے ڈیلونی کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے ولاہووچ پر جرائم ثابت ہونے کے بعد انہیں سزا دی گئی ہے۔

ولاہووچ کوچوری کے الزام میں ان کی آبائی ریاست موٹی نیگرو میں قید کی سزا دی گئی تھی مگر وہ بارہ سال قبل وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔

اس کے بعد وہ سپین میں ایک بلغارین پاسپورٹ پر رہتے رہے حتیٰ کہ انھیں گرفتار کر کے دو ہزار دس میں بوسنیا واپس لایا گیا۔

ولاہووچ چوری کے الزام میں سپین میں اور سربیا میں قتل کے الزام میں مطلوب ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس عدالت کی کارروائی کی رفتار دی ہیگ میں ہونے والی سماعت کی نسبت تیز ہے جہاں سابق یوگوسلاویا کے جنگی جرائم کا ٹریبیونل کیسوں کی سماعت کر رہا ہے۔

موازنے کے طور پر اگر دیکھا جائے تو دی ہیگ میں سابق سرب قوم پرست رہنما یوگسلاو سیسلج گذشتہ دس سال سے حراست میں ہیں اور ان کا مقدمہ اب تک نامکمل ہے۔

اسی بارے میں