کولمبو:مسلم گودام پر حملہ، حالات کشیدہ

Image caption سری لنکا کے سخت گیر بودھ ملک میں مسلم طرزِ زندگی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں سنہالی بودھوں کی جانب سے مسلمانوں کے ملکیتی گودام میں توڑ پھوڑ اور اسے نذرِآتش کیے جانے کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔

بودھ راہبوں کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے جمعرات کی رات مسلمانوں کے ملکیتی ایک گودام پر دھاوا بول کر توڑپھوڑ کی تھی۔

اس واقعے کے بعد متاثرہ علاقے میں ایلیٹ پولیس کے دستے گشت کر رہے ہیں جبکہ علاقے میں اب بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پولیس کے ترجما بدھیکا سری وردھنے نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ جمعرات کی رات سنہالی گروہوں نے پپیلیانا کے علاقے میں واقع ملبوسات کے گودام پر پتھراؤ کرنے کے بعد اسے آگ لگا دی۔ ان کے مطابق اس حملے میں تین افراد زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صورتحال پر چند گھنٹے میں قابو پا لیا گیا تھا اور ہم نے متاثرہ علاقے کی نگرانی اور وہاں حالات بگڑنے سے بچانے کے لیے سپیشل ٹاسک فورس کے کمانڈوز کے اضافی دستے تعینات کر دیے ہیں۔‘

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

پولیس کے بیان کے برعکس عینی شاہدین کے مطابق موقع پر موجود پولیس نے ابتدا میں حملہ آوروں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تاہم جب تشدد کا سلسلے پھیلنے لگا تو پولیس نے دخل اندازی کی اور حالات پر قابو پایا۔

موقع سے ملنے والے ویڈیو فوٹیج میں ہجوم کو عمارت پر پتھراؤ کرتے اور مالکان کو گالیاں دیتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔

حکام نے اس حملے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی ہے تاہم اسے ملک میں مسلم اور سنہالی بودھ آبادی کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے۔

مسلمان سری لنکا کی کل آبادی کا نو فیصد ہیں اور سری لنکا کے سخت گیر بودھ ملک میں مسلم طرزِ زندگی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سری لنکا کے ایک سخت گیر سنہالی بودھ مت گروپ نے ملک میں حلال اشیا کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی تھی اور دکانداروں سے کہا تھا کہ وہ حلال اشیا کے اپنے تمام ذخیروں کو اپریل تک ختم کر دیں۔

بودو بالا سینا نامی اس گروہ نے دوسرے مذاہب کا پرچار کرنے والوں کو بھی ایک ماہ کے اندر سری لنکا سے چلے جانے کو کہا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیویلینڈ نے کولمبو سے بتایا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مسجدوں اور مندروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کےکاروباروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کو حزب مخالف کے ایک رکن مجیب الرحمٰن نے بتایا ہے کہ ملک میں کسی وقت بھی مسلمانوں اور سنہالیوں کے مابین نسلی فسادات چھڑ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں