شام میں لڑائی، امریکی فوجی کے خلاف مقدمہ

امریکہ نے اپنے سابق فوجی کو شام میں القاعدہ سے منسلک باغیوں کے ہمراہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑائی کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

ایرک ہارون کو جمعرات کے روز اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ واپس امریکہ پہنچے۔ ایرک ہارون سنہ دو ہزار سے دو ہزار تین تک امریکی فوج میں رہے اور ایک ٹریفک حادثے کے بعد انہیں طبعی وجوہات کی بنا پر فوج سے علیحدہ کیاگیا۔

ایرک ہارون پر الزام ہے کہ وہ ترکی کی سرحد سے شام میں داخل ہوئے اور وہاں القاعدہ سے منسلک گروہ النصرا فرنٹ کے ہمراہ بشار الاسدکے خلاف لڑائی میں شریک رہے۔

ایرک ہارون پر الزام عائد کیاگیا ہے کہ انہوں نے امریکہ سے باہر’ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار‘ کو چلانے کی سازش کی۔

اگر ایرک ہارون پر الزام ثابت ہو گیا ہے تو انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ایرک ہارون نے مبینہ طور پر راکٹ لانچر اٹھائے ہوئی اپنی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر چسپاں کی۔ ایرک ہارون کی دو ویڈیو بھی جاری ہوئی ہیں جس میں وہ یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں: ’بشار الاسد آپ کے دن پورے ہو چکے ہیں ۔۔۔ آپ کہاں جاؤ گے، ہم آپ کو ڈھونڈ کر ہلاک کر دیں گے۔‘

عدالت میں داخل کی جانے والی دستاویزات کے مطابق ایرک ہارون نے تین بار استنبول میں امریکی قونصل خانے میں ایف بی آئی کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وہ شام میں کیا کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایف بی آئی کو بتایا کہ وہ شام کی فری سیریئن آرمی کے ہمراہ لڑنا چاہتے تھے اور کچھ عرصہ تک وہ ان کے ہمراہ لڑے بھی لیکن بعد میں وہ النصر گروپ میں شریک ہو گئے۔

انہوں نے امریکی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں تصدیق کی کہ وہ النصرا گروپ کے ہمراہ لڑ رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ گروپ ممنوعہ قرار دیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں