وردک میں فوجی اڈے کا کنٹرول افغان فورسز کے حوالے

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب واقع صوبے وردک میں تعینات امریکی سپیشل فورسز نے صوبے کے سٹریٹیجک اڈے کا کنٹرول افغان سپیشل فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکی سپیشل فورسز نے صوبے کے نرخ ضلع میں واقع اہم فوجی اڈے کا کنٹرول افغان سپیشل فورسز کے حوالے کردیا ہے۔

تاہم امریکی سپیشل فورسز صوبے میں 2014 میں فوجوں کے انخلا تک صوبے میں کارروائیاں کرتی رہیں گی۔

دفاعی نقطۂ نظر سے صوبہ وردک خاصی اہمیت کا حامل ہے اور حالیہ دنوں یہاں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز ہے۔

افغانستان میں امریکی سپیشل فورسز کے کمانڈر میجر جنرل ٹونی تھامس نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سپیشل فورسز صوبہ وردک کے دیگر علاقوں کی طرح نرخ کے علاقے میں بھی جاتی رہیں گی۔

’امریکی سپیشل فورسز وردک کے دفاع کا اہم جزو ہے۔‘

واضح رہے کہ چوبیس فروری کو افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صوبے وردک میں تعینات امریکی سپیشل فورسز کو گمشدگیوں اور تشدد کے الزامات کے بعد دو ہفتوں کے اندر اندر وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

صدر کرزئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز کا حصہ سمجھے جانے والے چند افغانیوں کی کارروائیوں کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا۔

امریکی ترجمان نے کہا تھا کہ وہ خلاف ورزیوں کے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ تازہ پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے ہیں۔

صدر کرزئی کے ترجمان نے ایک نیوز کانفرس میں بتایا تھا کہ امریکی فورسز کو آئندہ دو ہفتوں کے اندر اندر صوبہ وردک سے نکلنا ہو گا۔

’وہاں کچھ افراد ہیں، کچھ افغان ہیں جو ان سیلز میں امریکی فورسز کے ساتھ ہیں کام کرتے ہیں، لیکن ہمارے ذرائع اور صوبے میں کام کرنے والے حکام کے مطابق یہ امریکی فورسز کا حصہ ہیں۔‘

ان افغان یونٹس کو تشدد اور گمشدگیوں کے الزامات کا سامنا ہے اور پارلیمان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھی ان پر یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا سر قلم کرنے کا الزام ہے۔

امریکی فورسز اور ان کے ساتھ کام کرنے والی مقامی ملیشیاء کے احتساب کا معاملہ افغانستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کا بڑھتا ہوا سبب ہے۔

ایک ہفتہ قبل ہی افغان صدر نے افغان سکیورٹی فورسز کا پابندی لگائی تھی کہ وہ رہائشی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران فضائی طاقت کی مدد نہیں مانگ سکتے۔

صوبہ کنٹر میں دس شہریوں کی ہلاکت کے بعد صدر کرزئی نے یہ پابندی عائد کی تھی اور اس وقت کہا تھا ’ہماری فورسز غیر ملکیوں سے فضائی مدد مانگتی ہیں اور ان فضائی حملوں میں ہمارے بچے مارے جاتے ہیں‘۔

اسی بارے میں