مصری صدر کے ناقد کی ضمانت پر رہائی

Image caption باسم یوسف کو سابق صدر حنسی مبارک کے خلاف تحریک کے دوران شہرت ملی

مصر میں ٹی وی پر طنزیہ پروگرام کے میزبان اور حکومت کے ناقد باسم یوسف کو تفتیش کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

باسم یوسف کا مقبول ٹی وی پرگرام البرنامج ایک نجی نیٹ ورک پر دکھایا جاتا ہے اور اس میں صدر اور دوسری سیاسی شخصیات کو تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سنیچر کو اسلام اور صدر مرسی کی تضحیک کے الزامات پر باسم یوسف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

وارنٹ کے اجراء کے بعد اتوار کو قاہرہ میں حکام نے پانچ گھنٹے تک باسم یوسف سے ان الزامات کے حوالے سے تفتیش کی۔

تفتیش کے بعد انہیں پندرہ ہزار مصری پاؤنڈ بطور زرِ ضمانت جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔

اتوار کو جب باسم استغاثہ کے دفتر پہنچنے پر انہوں نے ایک بڑی ٹوپی پہنی ہوئی تھی جیسی کہ مصری صدر مرسی نے حال ہی میں پاکستان میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کرتے وقت پہن رکھی تھی۔

پراسیکیوٹر کے سامنے پیش ہونے سے پہلے باسم یوسف نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں مذاقاً کہا کہ افسران اور وکلاء ان کے ساتھ تصاویر بنوانا چاہتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں یہاں بلایا گیا ہے۔

باسم اپنے پروگرام میں ساتھی میزبانوں، جانی پہچانی مذہبی شخصیات اور صدر مرسی سمیت بڑی تعداد میں لوگوں پر طنز کرتے ہیں۔

وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور انہیں سال دو ہزار گیارہ میں مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف جاری عوامی تحریک کے دوران اس وقت مقبولیت ملی جب انہوں نے عوامی نمائندوں پر طنزیہ انداز میں تنقید کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کرنا شروع کیں۔

انہیں زیادہ شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے امریکی فن کار جان سٹیورٹ کی طرز پر طنزیہ شو شروع کیا اور اسے ہفتے میں تین بار مصر کے نجی ٹی وی چینلز پر نشر کیا جانے لگا۔

تاہم جب انہوں نے مصر کے صدر مرسی کے فرعون کے انداز میں خاکے دیکھائے جس میں صدر مرسی کو’سپر مرسی‘ کہا گیا اور صدر کا خاکہ ایک تکیے چسپا کر کے ان کی تقاریر کی نقل اتاری تو ایک اسلام پسند وکیل نے برا منایا اور باقاعدہ ان کے خلاف شکایت کر دی اور اب اسی شکایت پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

باسم یوسف پر صدر مرسی اور مذہب اسلام کی تخصیک کے الزام کے علاوہ غلط خبریں پھیلانے اور عوامی نظام میں خلل ڈالنے کے مقصد کا الزام بھی ہے۔

باسم یوسف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر مصر میں آزادی صحافت کا مسئلہ ایک بار پھر اجاگر ہوا ہے۔

اس واقعے کے بعد صدر مرسی اور ان کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین کے مخالفین کے خلاف استغاثہ کی کارروائیوں کا تعلق بھی سامنے آیا ہے۔

Image caption باسم یوسف کا پرگرام ہفتے میں تین بار نشر کیا جاتا ہے اور یہ عوام میں خاصا مقبول ہے

گذشتہ ہفتے کے شروع میں مصر کے اعلیٰ استغاثہ نے پانچ سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا ان میں سے ایک نمایاں بلاگر بھی شامل تھے جن پر اس شک کے تحت الزام عائد کیا گیا کہ وہ اخوان المسلمین کے خلاف غصے کو ابھارنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مصر میں کئی صحافیوں نے ملک کے نئے آئین پر تنقید کی ہے جسے رواں سال کے شروع میں اسلام پسندوں کی حمایت سے مرتب کیا گیا تھا۔

ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس آئین میں صحافتی آزادیوں کی زیادہ ضمانت نہیں دی گئی ہے۔

آئین کے مخالفین نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے تھے اور ان کا کہنا تھا اس کا جھکاؤ اسلام کی طرف ہے اور اس میں خواتین اور عیسائیوں کے تحفظ کی زیادہ ضمانت نہیں دی گئی ہے۔

اسی بارے میں