پوپ فرانسس کی ایسٹر پر قیامِ امن کی اپیل

Image caption پوپ نے پہلے ہی ویٹیکن میں ایک نیا انداز متعارف کروا دیا ہے

پوپ فرانسس نے پاپائے روم منتخب ہونے کے بعد اتوار کو اپنے پہلے ایسٹر پیغام میں دنیا بھر میں قیامِ امن کی اپیل کی ہے۔

پوپ فرانسس نے اپنے خطاب میں افریقہ اور مشرقِ وسطی سمیت دنیا بھر میں امن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے بطورِ خاص شام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’پیارے شام! کتنا خون بہایا جا چکا ہے۔ کشیدگی کا سیاسی حل تلاش کرنے تک مزید کتنی صعوبتیں برداشت کرنا ہوں گی‘؟

پوپ فرانسس ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز سکوائر میں عشائے ربانی میں شریک تھے۔

پوپ نے دنیا بھر میں امن کے حوالے سے مسائل کا شکار خطوں کا ذکر کیا۔

’مشرق وسطیٰ میں امن خاص طور پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان، جو کسی معاہدے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں خوشی خوشی اور دلیرانہ انداز میں لڑائی کے خاتمے کے لیے مذاکرات بحال کرنے چاہئیں۔

’عراق میں امن کے لیے ہر قسم کا تشدد ختم ہونا چاہیے اور سب سے بڑھ کر پیارے شام، اپنے لوگوں کے لیے جو لڑائی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور کئی مہاجرین جو مدد اور آرام کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

افریقہ کے حوالے سے پوپ نے مالی، نائجیریا، جمہوریہ کانگو اور جمہوریہ وسطی افریقہ کا ذکر کیا۔

انہوں نے ایشیا میں امن کے حوالے سے جنوبی اور شمالی کوریا میں کسی معاہدے کے لیے امید کا اظہار کیا۔

پوپ نے کہا’پوری دنیا میں امن، اب بھی تساہل پسندوں کی لالچی نظروں کے باعث منقسم ہے، خود غرضی کے باعث زخمی ہے، جس کی وجہ سے انسانی زندگی اور خاندان کو خطرہ لاحق ہے، خود غرضی کی وجہ سے انسانی سمگلنگ جاری ہے جو آج اکیسویں صدی میں غلامی کی بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی شکل ہے۔‘

عیسائی کیلنڈر میں ایسٹر سب سے اہم تقریب ہے۔

سینٹ پیٹرز کے ایسٹر سے قبل ہونے والے عشائے ربانی میں پوپ نے غیر عیسائیوں اور گمراہ کیتھولک سے درخواست کی کہ وہ خدا کی طرف ’قدم بڑھائیں۔‘

انھوں نے کہا، ’عیسیٰ کو اپنی زندگیوں میں آنے کا موقع دیں۔ ان کا بطورِ دوست اعتماد سے خیرمقدم کریں، وہ زندگی ہیں۔ اگر اب تک آپ نے انھیں فاصلے پر رکھا ہے تو اب قدم بڑھائیں، وہ آپ کو کھلے بازوؤں سے ملیں گے۔‘

تقریب کے آغاز پر چرچ کے ہال کو تاریک رکھا گیا تھا۔ یہ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ کے دوبارہ جی اٹھنے سے قبل قبر کے اندر تاریکی کی نمائندگی کرتا ہے۔

تقریب معمول سے مختصر تھی، کیوں کہ ویٹیکن کے مطابق پوپ فرانسس مختصر عشائے ربانی کو ترجیح دیتے ہیں۔

خورخے مریو برگولیو کو اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو پوپ منتخب کیا گیا تھا۔ وہ تیرہ صدیوں میں پہلے غیر یورپی پوپ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ولی نے روم سے خبر دی ہے کہ چھہتر سالہ پوپ نے پہلے ہی ویٹیکن میں ایک نیا انداز متعارف کروا دیا ہے۔

انھوں نے تقریبات کا دورانیہ مختصر کر دیا ہے، عوام تک رسائی آسان بنا دی ہے، اور وہ لوگوں تک اپنی بات سہل زبان میں پہنچاتے ہیں جسے سمجھنا آسان ہوتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق وہ ویٹیکن میں دوسرے پادریوں کے ساتھ کھانے کے ہال میں کھانا کھاتے ہیں، اور انھیں روایتی تقریبات بوجھ لگتی ہیں۔

بجائے اس کے وہ پوپ کے پرتعیش اپارٹمنٹ میں رہیں، پوپ فرانسس نے ویٹیکن کے مہمان خانے میں رہائش اختیار کر رکھی ہے، جہاں وہ صبح کی عشائے ربانی کے لیے عام لوگوں کو مدعو کرتے ہیں۔

ایسٹر سے قبل پوپ نے عورتوں اور مسلمانوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جمعرات کے روز انھوں نے 12 افراد کے پیر دھوئے اور انھیں بوسہ دیا۔ ان افراد میں دو لڑکیاں اور دو مسلمان شامل تھے۔

انھوں نے اس تقریب میں مشرقِ وسطیٰ میں ’ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ دوستی‘ کا ذکر کیا تھا۔

اسی بارے میں