خالد مشعل پھر حماس کے سربراہ مقرر

Image caption خالد مشعل عشروں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں

خالفلسطینی گروپ حماس نے ایک بار پھر خالد مشعل کو اپنا سربراہ چن لیا ہے۔ خالد مشعل 2004 میں پہلی مرتبہ اس وقت حماس کے سربراہ بنے تھے جب حماس کے خالق شیخ احمد یاسن کو ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا تھا کہ حماس شاید اس اس بار خالد مشعل کو اپنا سربراہ بنانے کی بجائے غزہ میں موجود حماس کے رہنماؤں میں سے کسی ایک کو نیا سربراہ چن لے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

خالد مشعل نےگزشہ برس عندیہ تھا کہ وہ شاید اگلے برس تنظیم کی سربراہی کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے۔

حماس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ تنظیم کو شوریٰ نے قاہرہ میں ہونے والے اپنے اجلاس میں خالد مشعل کو اگلے چار برسوں کے لیے اپنا سربراہ چن لیا ہے۔

غرب اردن کے علاقے رملہ میں پیدا ہونےوالے خالد مشعل عشروں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور پہلی گزشتہ دسمبر میں پہلی بار غرہ کا دورہ کیا۔

اس دورے کے دوران انہوں نے حماس اور الفتح کے اختلافات کو کم کرانے کی کوشش کی جس میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔

اسی بارے میں