’بحران کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں‘

Image caption اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے فریقین سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کو معمول پر لاتے ہوئے مذاکرات کریں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اپنے منفی بیانات میں بہت آگے نکل چکا ہے اور اس کے سنگین تنائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل پر درمیانی درجے تک مار کرنے والے میزائل نصب کر دیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے شمالی کوریا سے اپیل کی وہ اپنا رویہ بدلے۔

قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ انہیں جزیزہ نما کوریا میں کسی بھی’غیر ضروری بحران‘ پر تشویش ہے اور اس کے’بہت سنگین نتائج‘ نکل سکتے ہیں۔

انہوں نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’غیر واضح دھمکی ایک کھیل نہیں ہے اور یہ بہت سنجیدہ ہے، میرے خیال میں وہ’ شمالی کویا‘ اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات میں بہت آگے نکل چکا ہے‘۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے فریقین سے اپیل کی کہ وہ کشیدہ صورتحال کو معمول پر لاتے ہوئے مذاکرات کریں۔

دریں اثناء روس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی خلاف ورزی واضح طور پرناقابل قبول ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ فی الحال شمالی کوریا کے عزائم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

اس سے قبل شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی فوج کو امریکہ پر ایٹمی حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

Image caption شمالی کوریا نےحالیہ ہفتوں میں امریکی ریاست ہوائی اور گوام جزیرے پر فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں

شمالی کوریا کی فوج سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کی جارحانہ پالیسی اور جوہری خطرے کو سختی سے کچلا جائے گا اور اس بارے میں بے رحم مہم کی اجازت دے دی گئی ہے۔

بیان میں فوج کا کہنا تھا کہ ’ہم باقاعدہ طور پر وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمۂ دفاع کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کی شمالی کوریا کے لیے جارحانہ پالیسی اور اس سے لاحق جوہری خطرے کو عوام اور فوج کا عزم اور ایک چھوٹا اور متنوع جوہری حملہ پاش پاش کر دے گا اور اس سلسلے میں انقلابی افواج کے بےرحمانہ آپریشن کا حتمی جائزہ لینے کے بعد اس کی منظوری دے دی گئی ہے۔‘

بیان میں یہ بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں ایک سے دو دن میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔

امریکی وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے معاملات کی کونسل کی ترجمان کیٹیلن ہیڈن نے اس بیان کو ’غیر تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حالات بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ان اشتعال انگیز بیانات میں سے ایک ہے جو شمالی کوریا کو عالمی برادری سے مزید دور لے جا رہے ہیں۔‘

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا جس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہے وہ ایک واضح خطرے کی نشانیاں ہیں۔

شمالی کوریا کی جانب سے یہ تازہ بیان امریکہ کے بحرالکاہل میں اپنے جزیرے گوام میں انتہائی جدید بیلسٹک میزائل نظام نصب کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

شمالی کوریا گزشتہ کچھ ہفتوں سے جنوبی کوریا اور اس کے اتحادی امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

امریکہ اس سے پہلے شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جنوبی کوریا میں دفاعی میزائل نظام کی تنصیب کی تصدیق کر چکا ہے۔اس کے علاوہ دو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پہلے ہی علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی جدید دفاعی نظام ’تھاڈ‘ آنے والے ہفتوں میں جزیرہ گوام میں نصب کر دیا جائے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

کچھ ہفتے پہلے شمالی کوریا نے بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام اور ریاست ہوائی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

شمالی کوریا اپنے حالیہ جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی ناراض ہے۔

سیول میں موجود بی بی سی کے ڈیمیئن گرامیٹیکس کا کہنا ہے کہ بہت کم مبصرین کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس ایسے راکٹ اور چھوٹے ہتھیار ہیں جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق بظاہر شمالی کوریا امریکہ پر باقاعدہ امن معاہدے کی امید میں جوہری معاملات پر بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں