چین کے شاہ خرچ سیاح

چینی سیاح 2012 میں بیرونِ ملک سیاحت پر ایک سو دو ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر کے سیاحت کے شعبے میں عالمی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ رہے۔

چینی سیاحوں کی جانب سے خرچ کی جانے والی یہ رقم گزشتہ برس ان کی جانب سے سیاحت پر خرچ کی گئی رقم سے چالیس فیصد زیادہ ہے۔

یہ اعدادوشمار اقوامِ متحدہ کی سیاحتی آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

اور ان کے مطابق اب چینی دنیا میں سیاحت پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والی قوم ہیں جبکہ اس فہرست میں دوسرا اور تیسرا درجہ جرمنی اور امریکہ کا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سیاحتی آرگنائزیشن چینی باشندوں کی جانب سے سیاحت پر اتنی بڑی رقم کے خرچ کی وجہ چین میں عوام کی کمائی میں اضافہ، بیرونِ ملک سفر پر عائد پابندیوں میں نرمی اور چین کی کرنسی کی بڑھتی ہوئی قدر اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سیاحتی آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی سیاحت کی صنعت فروغ پا رہی ہے۔

روس کی سیاحتی فیڈریشن کے مطابق گزشتہ سال کے دوران وہاں سیاحت پر خرچ کی گئی رقم میں 32 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ رقم بڑھ کر 43 ارب ڈالر ہوگئی۔ اس اضافے کی وجہ سے روس سیاحت سے آمدن کی عالمی درجہ بندی میں ساتویں سے پانچویں نمبر پر آ گیا۔

اقوامِ متحدہ کی عالمی تنظیم برائے تجارت کے سیکرٹری جنرل طالب رفائی کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی معیشتوں نے سیاحت کی صنعت پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

اسی بارے میں