’ سفارت کاروں کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے‘

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے پیانگ یانگ میں موجود غیر ملکی سفارت کاروں کو بتایا ہے کہ وہ بحران کی وجہ سے ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

شمالی کوریا نے غیر ملکی سفارت کاروں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ان کے ملک سے نکالنے کے بارے میں سوچیں۔

دوسری جانب روس اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں موجود اپنے ملازمین کو فوری طور پر نکالنے کے بارے میں کوئی منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے یہ اقدام جنوبی کوریا اور امریکہ کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے مشرقی سرحد پر ایک میزائل منتقل کرنے کے بعد میزائل شکن دفاعی نظام سے لیس دو جنگی بحری جہازوں کو تعینات کیا ہے۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ملک کے مشرقی اور مغربی ساحلی علاقوں میں دو جنگی بحری جہازوں کو تعینات کیا جائے گا۔

سیول نے شمالی کوریا کی طرف سے میزائل کی منتقلی کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے یہ جارحانہ قدم کی بجائے کوئی تجربہ ہو۔

برطانوی سفارت کاروں نے جمعہ کو بتایا کہ شمالی کوریا نے ان سے کہا ہے کہ وہ دس اپریل تک اپنے سفارت خانوں سے اپنے ملازمین کے انخلا کے بارے میں جواب دیں۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ حالات کا جائزہ لے رہا ہے تاہم اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ہمارا سفارت خانے سے ملازمین کی فوری انخلا کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ماسکو کو شمالی اور جنوبی کوریا کی جانب سے دی جانے والی زبانی دھمکیوں پر تشویش ہے۔

حالیہ ہفتوں میں شمالی کوریا نے بیان بازی میں اضافہ کیا ہے اور امریکی سرزمین پر حملوں کی مخصوص دھمکیاں دی ہیں۔

پیانگ یانگ نے جن اہداف کا ذکر کیا ہے ان میں بحرالکاہل کا جزیرہ گوام شامل ہے، جس میں امریکی چھاؤنی واقع ہے۔

جمعرات کو امریکہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ ان دھمکیوں کے جواب میں گوام میں میزائل شکن دفاعی نظام نصب کرے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان خاتون وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ’ہمارے اقدامات کا مقصد امریکی عوام اور اتحادیوں کو یہ یقین دہانی کروانی ہے کہ ہم امریکہ کا دفاع کر سکتے ہیں‘۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ نے جمعرات کو قانون سازوں کو بتایا کہ شمال نے ایک میزائل مشرقی ساحل پر منتقل کیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اس سے پہلے فوجی تجربات کیے جاتے رہے ہیں۔

جمعہ کو غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق شمال نے دو میزائل منتقل کر کے انھیں لانچروں پر نصب کر دیا۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ نے کہا ہے کہ اس اقدام کو کشیدگی میں اضافے کی ایک اور کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔

ان میزائلوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ درمیانے درجے تک مار کرنے والے موسوندانز نامی میزائل ہیں، جو گوام تک پہنچ سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے یون ہاپ کا کہنا ہے کہ دونوں جنگی جہازوں میں ایجس نامی دفاعی نظام نصب ہیں جو صورتِ حال کا جائزہ لیں گے۔

یون ہاپ نے ایک عہدے دار کے حوالے سے کہا ’اگر شمال پہلے میزائل فائر کرتا ہے تو ہم اس کے خطِ پرواز کا مشاہدہ کریں گے۔‘

شمالی کوریا کے معاندانہ بیانات کے باوجود اس نے 2010 کے بعد سے اب تک کوئی براہِ راست فوجی کارروائی نہیں کی ہے جب اس نے جنوبی کوریا کے ایک جزیرے پر فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کر ڈالا تھا۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں اس نے جنوبی کوریا اور امریکہ پر ایٹمی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

اس نے جنوبی کوریا کے خلاف جنگ کا باضابطہ اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود ایک بند ایٹمی ریکٹر کو دوبارہ کھول رہا ہے۔

شمالی کوریا اپنے حالیہ جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی ناراض ہے۔

بہت کم مبصرین سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کے پاس ایسے راکٹ اور چھوٹے ہتھیار موجود ہیں جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق شمالی کوریا بظاہر امریکہ پر باقاعدہ امن معاہدے کی امید میں جوہری معاملات پر بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں