غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی مراکز بند

Image caption اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی غزہ میں ایک اندازے کے مطابق اسی ہزار فلسطنیوں کو امداد فراہم کرتی ہے

اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی میں ایک مرکز پر حملے کے بعد خوراک تقسیم کرنے والے اپنے مراکز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غزہ میں اقوام متحدہ کے خوراک تقسیم کرنے والے ایک مرکز پر حملہ امداد میں کٹوتی کے اعلان کے بعد کیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کا کہنا ہے کہ خوراک تقسیم کرنے والے مراکز اس وقت تک بند رکھے جائیں گے جب تک عملے اور املاک کی سکیورٹی کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی ہے۔

ایجنسی کے مطابق غزہ کے غریب ترین خاندانوں کو نقد رقم کی فراہمی میں کٹوتی کے اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے کوشش کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی غزہ میں ایک اندازے کے مطابق اسی ہزار فلسطنیوں کو امداد فراہم کرتی ہے۔

اس کے علاوہ غزہ کی سترہ لاکھ آبادی میں درجنوں سکول، طبی مراکز چلاتی ہے اور خوراک تقسیم کرتی ہے تاہم اسے اب مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق خوراک کی تقسیم بند ہونے کے نتیجے میں پہلے ہی مصر اور اسرائیل کی سرحدی سختی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار غزہ کی عوام کے مسائل میں اضافہ ہو گا۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی’یو این آر ڈبلیو اے‘ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ غزہ میں اس کے فیلڈ دفتر پر ڈرامائی اور پریشان کن واقعات میں اضافہ گزشتہ چند ہفتوں سے جاری مظاہروں کا حصہ ہے۔‘

غزہ میں ایجنسی کے سربراہ رابرٹ ٹرنر کا کہنا ہے کہ’ جو آج ہوا وہ بلکل ناقابل قبول ہے، اس صورتحال کے نتیجے میں آسانی سے ایجنسی کا عملہ اور مظاہرین زخمی ہو سکتے تھے، یہ اضافہ بظاہر پہلے سے طے شدہ مصنوبہ تھا، جو غیر معمول اور ناجائز ہے۔‘

غزہ میں حماس کے ترجمان ابو زوہری نے امدادی ایجنسی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے تاہم انہوں نے خوراک تقسیم کرنے والے مراکز کی بندش کو بلاجواز قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں