بنگلہ دیش: بلاگرز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

Image caption اسلام پسند بلاگرز کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اسلامی گروہ مذہب اسلام کی’تضحیک‘ کرنے والے بلاگرز کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے ملک بھر سے ہزاروں مظاہرین’لانگ مارچ‘ کر کے ڈھاکہ پہنچے۔

جمعہ کو حکمراں جماعت عوامی لیگ کے حامیوں سے مظاہرین کے تصادم میں ایک پینتالیس سالہ شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

دارالحکومت میں بس اور کشی کی سروس معطل ہے اور مظاہرے کی مخالفت کرنے والے گروہوں نے ایک روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔

مظاہریں مطالبہ کر رہے ہیں کہ توہین اسلام کا نیا قانون متعارف کرایا جائے جس میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے والوں کو سزائے موت دی جا سکے۔

مظاہرین کےگروپ’تحفظِ اسلام‘ نے حکومت سے تیرہ مطالبات کیے ہیں اور حکومت پر تنقید کی ہے کہ وہ’ملحد‘ بلاگرز کے خلاف سخت کارروائی نہیں کر رہی۔

سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقات کے ایک ٹربیونل کے قائم ہونے کے بعد پائی جانے والی کشدگی کے دوران رواں سال فروری میں ایک بلاگر احمد رجب حیدر کو ان کے مکان کے سامنے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

احمد رجب حیدر بلاگرز کے اس گروپ میں شامل تھے جن کا مطالبہ ہے کہ سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم میں ملوث جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سزائے موت دی جائے۔

رواں ہفتے کے شروع میں تین بلاگر کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس کے بعد آٹھ بلاگر آپریٹرز کی ویب سائٹس بند ہو گئی تھیں جبکہ اعتدال پسندوں کا کہنا ہے کہ حکومت اسلام پسندوں کے دباؤ کے سامنے جھک رہی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں حکمراں جماعت عوامی لیگ کے حامیوں اور اسلام پسندوں کے درمیان تصادم کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔

اسی بارے میں