افغانستان: نیٹو کے فضائی حملے میں ’11 بچے ہلاک‘

Image caption نیٹو کے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتیں افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا بڑا سبب ہیں

افغان حکام اور عینی شاہدین کے مطابق مشرقی افغانستان میں نیٹو کے ایک فضائی حملے میں گیارہ بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان کے کُنر صوبے کے ضلع شیگل میں ہونے والے اس فضائی حملے کے نتیجے میں دو خواتین کی ہلاکت جبکہ چھ مزید خواتین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

نیٹو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شیگل کے علاقے میں ایک امریکی سویلین شخص کی شدت پسندوں کے ایک حملے میں ہلاکت کے بعد ’فضائی مدد‘ استعمال کی گئی تھی مگر ان کے پاس ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

ان کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پہلے سے ہی ایک حکم نامے کے زریعے سویلین علاقوں پر فضائی حملوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اس گاؤں کے لوگوں نے جہاں یہ حملہ ہوا بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے وقت یہ افراد اپنے گھروں کے اندر موجود تھے۔

عالمی خبر رساں اداروں کو بھجوائی گئی تصاویر جو مبینہ طور پر اس جگہ کی ہیں میں ایک قطار میں بچوں کی لاشیں پڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں جن کو کفن میں لپیٹ کر لٹایا گیا ہے اور ارد گِرد ان کے عزیز و اقارب سوگوار حالت میں بیٹھے ہیں۔

ایک مقامی عہدے دار نے کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں آٹھ طالبان جنگ جو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے سے تین گاؤوں میں کئی مکانات منہدم ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی اور افغان فوج نے ایک بڑی فوجی کارروائی کے دوران فضائی مدد مانگی تھی۔

قبائلی رہنما حاجی ملکہ جان نے بی بی سی کو بتایا، ’کل صبح (ہفتے کو) لڑائی شروع ہوئی اور کم از کم سات گھنٹوں تک جاری رہی۔ دونوں طرف سے بھاری اسلحے کا تبادلہ ہوا۔

یہ علاقہ پاکستانی سرحد سے بہت قریب ہے اور یہاں سینکڑوں مقامی اور غیرملکی جنگ جو موجود ہیں، جن کی اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے۔‘

انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے کہا، ’ہم اس واقعے سے باخبر ہیں جو کل کنڑ صوبے میں پیش آیا جس میں عسکریت پسندوں نے افغان اور اتحادی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔

’ایساف کا کوئی رکن زمینی کارروائی میں شامل نہیں تھا، لیکن ایساف نے فضائی مدد فراہم کی جس سے کئی عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ ہمیں اس واقعے میں کئی عام شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے، لیکن کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں آئی۔ ایساف تمام شہریوں کی ہلاکتوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، اور ہم اس وقت اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا، ’فضائی مدد کے لیے اتحادی فوج نے درخواست کی تھی، نہ کہ افغان فوج نے۔‘

بین الاقوامی فوجیں 2014 کے آخر تک افغانستان سے انخلا کی تیاری کر رہی ہیں۔ اتحادی فوج کی طرف سے عام شہریوں کی ہلاکتیں افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت اور امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان کشیدگی کا بڑا سبب رہی ہیں۔

گذشتہ برس فروری میں اسی علاقے میں نیٹو کے ایک حملے میں دس عام شہری ہلاک ہو گئے تھے جن میں بیشتر عورتیں اور بچے تھے۔

گزشتہ سال فروری میں دس سویلین افراد جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل تھے اسی علاقے میں ہونے والے نیٹو کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی سال فروری میں افغان صدر نے افغان افواج کی جانب سے فضائی حملوں کی درخوات کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔

اسی بارے میں