چین: متنازع جزائر پر سیاحت کا اعلان

فائل فوٹو، چین سیاحت

چین نے آئندہ ماہ سے مشرقی سمندری علاقے کے متنازع جزائر میں سیاحت کے لیے بحری جہاز کی سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق مشرقی بحیرہ چین کے سب سے بڑے جزیرے میں کیونکہ صرف ایک ہوٹل ہے اور وہاں پینے کا پانی دستیاب نہیں اس لیے سیاح بحری جہاز پر قیام کریں گے۔

ان جزائر کو چین میں زئشا کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن یہ پارسلز کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ ان جزائر پر چین کے علاوہ تائیوان اور ویت نام کا دعویٰ ہے۔

سنہ انیس سو چوہتر میں جنوبی ویت نام سے مختصر جنگ کے بعد چین کا ان جزائر پر کنٹرول ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا نیوز نے ہیہانگ شیپنگ کمپنی کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریباً دو ہزار مسافروں کی گنجائش والا سینتالیس ہزار ٹن وزنی ایک بحری جہاز سفر کے لیے تیار ہے جبکہ ایک دوسرا جہاز تیاری کے مراحل میں ہے۔

چین کے صوبے ہائینان کے ایگزیکٹو نائب گورنر نے بتایا ہے کہ پہلے سیاحتی دورے آئندہ ماہ مئی میں قومی تعطیل کے دن سے شروع ہوں گے۔

زنہوا نیوز نے نائب گورنر کے حوالے سے مزید بتایا کہ جزائر پر موجود سہولتوں کو بہتر کیا جا رہا ہے تاہم سیاح بحری جہاز پرکھانا کھا سکیں گے اور سو سکیں گے۔

خیال رہے کہ مشرقی بحیرہ چین تیل اور گیس کے زخائر سے مالا مال ہے اور اس کی سمندری حدود پر کئی ممالک کا تنازع ہے۔

ماہرین نے چین کی جانب سے متنازع جزائز میں سیاحت شروع کرنے کے اعلان پر کہا ہے کہ چین نے ان جزائز پر خودمختاری ثابت کرنے کے حوالے سے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔

گزشتہ سال چین نے سب سے بڑے متنازع جزیرے یونگ زن پر مقامی حکومت کا ایک دفتر قائم کیا تھا اور چین کے اس اقدام پر ویت نام نے غصے کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں