توہینِ مذہب کے نئے قانون کی ضرورت نہیں: حسینہ واجد

Image caption بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں پہلے ہی ایسے مناسب قوانین موجود ہیں جن کی رو سے کسی مذہب کی تذلیل کرنے والے کو سزا دی جاسکتی ہے‘۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نے ملک میں توہینِ مذہب کے نئے قانون کے مطالبات پر کہا ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود قانون کافی ہے اور اسے بدلنے کا ان کی حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

بنگلہ دیش میں مذہبی جماعتیں توہینِ مذہب کے قانون کو بدلنے کا مطالبے کر رہی ہیں جس کے پسِ منظر میں بعض بلاگرز کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی توہینِ مذہب ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں پہلے ہی ایسے مناسب قوانین موجود ہیں جن کی رو سے کسی مذہب کی توہین کرنے والے کو سزا دی جاسکتی ہے‘۔

شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ ’یہ ملک ایک سیکولر جمہوری ملک ہے اس لئے ہر مذہب کے ماننے والوں کو اختیار ہے کہ وہ کھل کر اپنی عبادات کریں لیکن کسی کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا صحیح نہیں ہے۔ ہاں انہوں نے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے لیکن دراصل ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے ایسا کرنے کا ہمارے ہاں قانون موجود ہے اور اس میں ابھی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ مذہبی جماعتوں کے مطالبے کو رد کر رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’سوال رد کرنے یا تسلیم کرنے کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ہمیں اس کی ابھی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ان کے مطالبات پر غور کریں گے اور اگر ان میں سے کوئی ایسے مطالبات ہوئے جو بہتر ہوں گے تو ہم ان پر غور کریں گے اور ایسے مطالبات جو ملک اور معاشرے کے مفاد میں نہیں ہیں ہم انہیں نہیں پورا کریں گے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بلاگرز کی گرفتاری کہیں مذہبی جماعتوں کی جانب سے دباؤ پر تو نہیں کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ایک قانون موجود ہے جو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوں پر گرفت کرتا ہے تو اس کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے اور ہم نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کو بھی رد کیا کہ بنگلہ دیش اپنی سیکولر بنیاد رے ہٹ رہا ہے۔

شیخ حسینہ واجد نے یہ بیان سیکڑوں ہزاروں افراد کے دارالحکومت ڈھاکہ میں توہین مذہب کے مزید سخت قانون کی حمایت میں ریلی نکالنے کے دو دن بعد دیا۔

ایک جانب اسلام پسند تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ملک میں توہینِ مذہب کے مرتکب افراد کو سزائے موت سمیت سخت سزائیں ملنی چاہیں۔

دوسری جانب اعتدال پسند طبقے حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ حکومت اسلام پسندوں کے دباؤ کے سامنے جھک رہی ہے۔

اس سے قبل سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقات کے ایک ٹربیونل کے قائم ہونے کے بعد پائی جانے والی کشیدگی کے دوران رواں سال فروری میں ایک بلاگر احمد رجب حیدر کو ان کے مکان کے سامنے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

احمد رجب حیدر بلاگرز کے اس گروپ میں شامل تھے جن کا مطالبہ ہے کہ سنہ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران جنگی جرائم میں ملوث جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سزائے موت دی جائے۔

مذہبی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہیں وزیر اعظم کا بیان سن کر مایوسی ہوئی کیونکہ انہوں نے ملک میں توہینِ مذہب کے نئے قانون کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں دو دن قبل اسلام پسند تنظیموں نے اسلام کی’تضحیک‘ کرنے والے بلاگرز کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے مظاہرے کیے تھے۔

مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے ملک بھر سے ہزاروں مظاہرین’لانگ مارچ‘ کر کے ڈھاکہ پہنچے تھے۔

جمعہ کو حکمراں جماعت عوامی لیگ کے حامیوں سے مظاہرین کے تصادم میں ایک پینتالیس سالہ شخص بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں