شام: کار بم دھماکے میں پندرہ ہلاک، 53 زخمی

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے دارالحکومت دمشق میں کار بم دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک اور ترپن زخمی ہو گئے۔دھماکہ دمشق کے رہائشی اور کمرشل علاقے میں ایک سکول اور مرکزی بینک کے قریب ہوا۔

بتیس سالہ انانا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اپنی ساتھی کے ساتھ گلی میں تھی جب ہمارے پاؤں کے نیچے زمین ہلی۔لوگوں زور سے چلانے لگے دھماکہ ہوا، دھماکہ ہوا اور دھماکہ کی جگہ سے کالا دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔‘

جب ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وہاں پہنچ رہی تھیں تو پورے شہر میں سائرن کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

زخمیوں کو سٹریچر پر ایمبولنسوں میں ڈالا جا رہا تھا۔

سکیورٹی فورسز اور فوج نے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا تاکہ عام لوگ دھماکے کی جگہ پر جانے سے روکا جا سکے۔ حالیہ مہینے میں یہ دمشق میں دوسرا بڑا کار بم دھماکہ ہے۔ فروری میں بعث پارٹی کے صدر دفتر پر حملے میں ترپن لوگ ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے پیر کو کہا کہ مبصرین کی ٹیم قبرص میں شامی حکومت کی اجازت کی منتظر ہے تاکہ وہ وہاں جا کر اس لڑائی میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے تحقیقات کریں۔

ہیگ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی اطلاعات کے بارے میں بغیر کسی تاخیر تحقیقات ہونی چاہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو سال کے دوران شام میں جاری لڑائی میں تقریباً ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں