’مسلم خواتین کے لیے طلاق لینا بھی مشکل‘

حال ہی میں بی بی سی کے پروگرام پینوراما کو ایسے ثبوت ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں موجود شریعہ کونسل مسلم خواتین پر ایسی شادیاں قائم رکھنے کے لیے دباؤ ڈالتی ہیں جن سے وہ خوش نہیں ہیں۔

مشرقی لندن میں ایک چھوٹے سے گھر میں ایک خاتون اور ان کے شوہر ایک مسلمان عالم کے سامنے دلائل دے رہے ہیں جو اس کمرے میں ان سے تھوڑی سی اونچائی پر بیٹھے ہیں۔ اس کمرے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ کوئی عدالت ہو۔

یہ لیٹن کے علاقے کی اسلامی شریعہ کونسل ہے اور یہاں موجود ڈاکٹر صہیب حسن یہ طے کریں گے کہ اس عورت کو طلاق مل سکتی ہے یا نہیں۔

اس عورت کے شوہر نے اسے طلاق دینے سے انکار کر دیا ہے اور یہ جوڑا تقریباً ایک سال سے یہاں آ رہا ہے۔

خاتون کا الزام ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں کام کرنے سے منع کر دیا اور وہ بچوں کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ہی انہیں گالیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔تاہم ان کے شوہر ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

جب ڈاکٹر حسن نے ان کے شوہر کو کمرے سے باہر جانے کا حکم دیا تو وہ عورت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بولی ’میں اس سے نفرت کرتی ہوں اور میں اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کر سکتی۔ اس نے میری زندگی برباد کر دی ہے۔‘

ڈاکٹر حسن شادی کو بچانے کی کوشش کرنے کے لیے اس جوڑے کو ایک دوسرے سے ایک ماہ تک دور رہنے کے لیے کہتے ہیں۔

لیٹن اسلامی شریعہ کونسل برطانیہ کی سب سے پرانی اور سب سے زیادہ سرگرم اسلامی کونسل ہے۔ یہاں ایک مہینے میں تقریباً 50 مقدمات کی سماعت ہوتی ہے اور ان میں سے زیادہ تر ازدواجی تنازعات سے جڑے معاملے ہوتے ہیں اور ہر دس میں سے نو معاملات مسلمان خواتین کی طرف سے درج کرائے جاتے ہیں۔

مسلم شادیوں میں کسی مرد کے لیے طلاق دینا زیادہ آسان ہے جبکہ مسلم خواتین کو طلاق لینے کے لیے انہی كونسلوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے تاہم ڈاکٹر حسن کا کہنا ہے ’ہم یہاں صرف طلاق کے معاملے پر ہی بات نہیں کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں،’ہم سب سے پہلے ثالثی چاہتے ہیں۔ ہم شادی کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ہمارے پاس جب بھی کوئی آتا ہے تو ہم ملاپ کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

Image caption ڈیوزبری شریعہ کونسل کا کہنا ہے کہ وہ انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتی

لیکن یہاں اسلامی قانون کی بنیاد پر دیے گئے فیصلے ہمیشہ خواتین کے مفاد میں نہیں ہوتے اور یہ کئی بار یہ برطانوی قانون کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں۔

لیڈز میں میری ملاقات سونیا سے ہوئی جنہیں اپنے شوہر کا شدید تشدد برداشت کرنا پڑا۔ ان کے شوہر نے انہیں لاتیں ماریں اور سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے اپنے بیٹے کو بھی مارا۔

جب سونیا کو سول عدالت کے ذریعے طلاق ملی تو عدالت نے اس کے شوہر کو ان کے بچوں سے ملنے کے لیے اجازت تو دی لیکن یہ ملاقات براہ راست طور پر ممکن نہیں تھی۔

شریعہ عدالتوں کو بچے رکھنے یا ان سے ملاقات سے متعلق معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں لیکن جب سونیا شرعی طلاق کے لیے لیٹن اسلامی شریعہ کونسل گئیں تو انہیں کہا گیا کہ انہیں اپنے بچے ان کے باپ کو دینا ہوں گے۔

سونیا کہتی ہیں، ’میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میرا بچہ کسی ایسے شخص کے ساتھ رہے جو تشدد پسند ہو۔‘

وہ کہتی ہیں ’میرے لیے باعثِ حیرت یہ بات تھی کہ جب میں انہیں یہ وجہ بتا رہی تھی کہ میرے بچے میرے شوہر کے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے تو ان کا ردعمل یہ تھا کہ آپ نے اسلام کے خلاف نہیں جا سکتیں۔‘

سونیا اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اور آخرِ کار لیٹن شریعہ کونسل کو یہ مطالبہ ترک کرنا پڑا۔

لیٹن اسلامی شریعہ کونسل نے بی بی سی پینورما کو بتایا کہ کسی شادی کے خاتمے پر والدین کے لیے بچوں تک رسائی کا سوال کلیدی ہے۔ کونسل کے مطابق اس معاملے میں سلامتی اہم ہے اور کسی بھی برطانوی عدالت کے حکم کی پاسداری بھی لازم ہے۔

لیٹن شریعہ کونسل کا عوامی چہرہ دیکھنے کے بعد ہم نے اپنے ایک ’انڈر کوور‘ ایجنٹ کو یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ کسی غیر عورت کو وہ کیا مشورہ دیں گے۔ اس ایجنٹ کی کہانی بھی یہی تھی کہ ان کا شوہر انہیں پریشان کرتا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد ایک جرم ہے جس کی اطلاع پولیس کو دی جانی چاہیے لیکن ڈاکٹر حسن نے اس ’انڈر کوور‘ ایجنٹ سے کہا، ’پولیس سب سے آخری طریقہ ہے۔ اگر وہ آپ سے مار پیٹ کرے تبھی آپ پولیس کو اطلاع دیں کیونکہ اس پرتشدد عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر وہ پولیس سے شکایت کرتی ہیں تو ان کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی اور انہیں گھر بھی چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک برا انتخاب ہے۔

لیٹن اسلامی شریعہ کونسل میں ڈاکٹر حسن کی بیوی بھی ایک مشیر ہیں۔ انہوں نے بھی ایجنٹ کو پولیس کے پاس جانے کی بجائے خاندان کو اس معاملے میں شامل کرنے کی بات کی۔

جب نارتھ ویسٹ کے چیف کراؤن پراسيكيوٹر نذیر افضل کو یہ خفیہ فوٹیج دکھائی گئی تو انہوں نے کہا، ’میں مایوس ہوں لیکن حیران نہیں ہوں۔ زیادہ تر شریعہ کونسل ٹھیک کام کر رہی ہیں لیکن ان میں سے کچھ ایسی ضرور ہیں جو عورتوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو مدد لینے سے روکا جائے گا تو انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔

میری ملاقات ایک دوسری خاتون سے ہوئی جو مغربی یارکشائر کے علاقے ڈيوزبري میں ایک دوسری شریعہ کونسل کے ذریعے طلاق لینے کی کوشش کر رہی تھیں۔

عائشہ نام کی اس خاتون کا شوہر تشدد کی وجہ سے جیل میں تھا۔ لیکن ڈيوزبري شریعہ کونسل نے انہیں اپنے شوہر سے ثالثی کرنے کو کہا۔

عائشہ کہتی ہیں، ’میں نے ان سے کہا کہ اسے میرے گھر کے قریب بھی پھٹكنے کی منظوری نہیں ہے کیونکہ میں اس سے ڈرتی ہوں۔ میں اس کے سامنے نہیں آ سکتی لیکن انہوں نے اس بات پر کوئی غور نہیں کیا۔‘

آخرِ کار ڈیوز بری شریعہ کونسل عائشہ سے ملاقات کے لیے تیار ہوئی لیکن عائشہ کو کسی وکیل کے بغیر پانچ رکنی کونسل کا سامنا کرنا تھا اور یوں انہیں شرعی طلاق کے حصول میں دو برس لگ گئے۔

ڈیوزبری شریعہ کونسل کا کہنا ہے کہ وہ انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتی لیکن وہ برطانوی عدالتوں کے احکامات کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور کبھی کسی فریق کو ان کی خلاف ورزی کو نہیں کہیں گے۔

جن خواتین سے میری ملاقات ہوئی ان کا کہنا ہے کہ شریعہ کونسلوں کو ذمہ دار ٹھہرانے اور ان سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے اور جہاں وہ خود آخرِ کار طلاق حاصل کرنے میں کامیاب رہیں وہیں برطانیہ میں بہت سی خواتین ایسی کونسلوں کی وجہ سے ہی بری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔