ایران: زلزلے سے37 ہلاک، ’جوہری بجلی گھر محفوظ‘

Image caption ایران ایک متحرک فالٹ لائن پر واقع ہے اور یہاں ماضی میں بھی زلزلے آتے رہے ہیں

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی حصے میں آنے والے زلزلے سے کم از کم 37 افراد ہلاک اور 850 زخمی ہوگئے ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ تین تھی اور اس کا نشانہ بوشہر کا علاقہ بنا۔

ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلہ منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق چار بج کر بائیس منٹ پر دس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا اور اس کا مرکز ساحلی شہر بوشہر کے جنوب میں کاکی نامی قصبہ تھا۔

بوشہر میں ایران کا واحد جوہری بجلی گھر واقع ہے تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بجلی گھر زلزلے سے متاثر نہیں ہوا اور معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں لیکن اندھیرے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق زلزلے سے دو دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ بوشہر کے علاقے میں پچاس سے زائد دیہات ہیں جن میں دس ہزار کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں۔

بوشہر کے گورنر کے مطابق زلزلے سے 200 خاندان اور 700 مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ تہران میں بی بی سی کے محسن اصغری کے مطابق گورنر کی جانب سے متاثرہ علاقے میں جنریٹر بھیج دیے گئے ہیں تاکہ امدادی آپریشن رات بھر جاری رہ سکے۔

گورنر فریدون حسن واند نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ زلزلے سے جوہری بجلی گھر کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔ روس کی خبر رساں ایجنسی انٹر فیکس نے بھی بجلی گھر کے روسی کنٹریکٹر کے حوالے سے بتایا کہ جوہری پلانٹ محفوظ ہے۔

زلزلے کا اثر ایران کے علاوہ خلیجی ممالک، دبئی، ابوظہبی اور بحرین میں بھی محسوس کیا گیا۔ ابوظہبی میں ایک عمارت کی دسویں منزل پر کام کرنے والے فِل سٹیون نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کے دوران پوری عمارت تیس سیکنڈز تک لرزتی رہی۔

خیال رہے کہ ایران ایک متحرک فالٹ لائن پر واقع ہے اور یہاں ماضی میں بھی زلزلے آتے رہے ہیں۔ ایرانی شہر بام میں 2005 میں آنے والے زلزلے سے پچیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں