کوریا: شمالی میں میزائل لانچ کی تیاری، جنوبی میں الرٹ

Image caption خطرے سبب جاپان نے بھی ٹوکیو میں میزائل شکن نظام نصب کر دیا ہے

شمالی کوریا کے ممکنہ میزائل ٹیسٹ کے پیش نظر جنوبی کوریا نے چوکس رہنے کی اپنی سطح کو بڑھا کر ’اہم خطرے‘ کی حد تک بڑھا دیا ہے۔

امریکی اور جنوبی کوریا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے تقریباً تین ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والے ایک بلیسٹک میزائل کو ایندھن سے لیس کیا ہے اور لانچ کے لیے تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے مسوڈان نامی دو میزائیلوں کو مشرقی ساحل پر واقع میزائل کی تجربہ گاہ پر لے جایا گیا ہے اور کسی بھی وقت اسے لانچ کیا جا سکتا ہے۔

جنوبی کوریا اور امریکہ نے اسی کے پیش نظر خطرے سے الرٹ رہنے کی سطح میں اضافہ کیا ہے۔

شمالی کوریا نے مسوڈان نامی میزائل کو دو ہزار دو میں ملٹری پریڈ کے دوران ظاہر کیا تھا لیکن اس کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ اس طرح کی بھی اطلاعات تھیں کہ اس نے شاید ایران کو فروخت کیا گيا ہو اور وہیں اس کا تجربہ کیا گیا ہو۔

جنوبی کوریا کے وزیر داخلہ یون بائیونگ نے پارلیمان کو بتایا کہ یہ تجربہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے دو ہزار چھ میں شمالی کوریا پر بلیسٹک میزائل یا جوہری تجربہ کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اگر اس نے یہ تجربہ کیا تو یہ اس کی خلاف ورزی ہوگی۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کا قدم اشتعال انگیز تو مانا جائےگا لیکن فوری طور پر اس سے کوئی عسکری خطرہ نہیں تا وقتیکہ وہ میزائل کسی غلط نشانے پر جا لگے۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار جان وڈورتھ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا کے سابق صدر کم ال سنگ کی سالگرہ کی مناسبت سے یہ تجربہ پیر کو کیا جائے۔

جنوبی کوریا نے اس خطرے کے پیش نظر عمومی طور پر سکیورٹی گشت بڑھا دیا ہے اور سفارت خانوں سمیت زمین دوز ٹرین سٹیشن کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

جاپان نے بھی ہائی الرٹ جاری کیا ہے اور احتیاط کے طور پر ٹوکیو میں اینٹی میزائل ڈیفنس نظام کو نصب کر دیا گيا ہے۔

چین میں بھی کئي ٹریول ایجنسیوں نے شمالی کوریا کے لیے سیاحتی دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل منگل کو اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان گی مون نے خبردار کیا تھا کہ معمولی سی غلطی سےجزیرہ نما کوریا کی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

بان گی مون نے ایک مرتبہ پھر شمالی کوریا سے کہا کہ وہ اشتعال انگیز بیان بازی سےگریز کرے اور شمالی اور جنوبی کوریا کے مشترکہ صنعتی علاقے کو دوبارہ کھولے۔

شمالی کوریا نے منگل کے روز جنوبی کوریا میں غیر ملکی کمپنیوں، تنظیموں اور سیاحوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا میں موجود غیر ملکیوں کے نام پیغام میں کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلح تصادم کے نتیجے میں ان کو کوئی نقصان پہنچے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل شمالی کوریا نے ملک میں قائم سفارتخانوں کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو شمالی کوریا ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے کارکنوں کو مشترکہ صنعتی زون میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور اس فیصلے کو دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید خرابی کی نشانی قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں