افغانستان:منشیات کے استعمال میں بھی اضافہ

Image caption اتنی بڑی تعداد میں افغانیوں کے منشیات کے عادی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گذشتہ ایک عشرے سے ملک میں جنگ جاری ہے

افغانستان افیم پیدا کرنے میں تو دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے تاہم اب تک افغان عوام کی اکثریت منشیات کے استعمال سے دور رہی تھی لیکن اب ملک میں ہیروئین استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ملک کی کل آبادی تقریبا تین کروڑ 35 لاکھ ہے جس میں دس لاکھ سے زیادہ افراد منشیات کے عادی ہیں۔

ملک کی آبادی کے تناسب سے منشیات کے عادی لوگوں کی یہ تعداد کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔

دارالحکومت کابل کے مرکز میں دریائے کابل کے کنارے لوگ ہیروئین لینے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ جگہ مصائب اور مشکلات کا اڈہ نظر آتی ہے۔

یہاں پر دن کی روشنی میں بڑوں اور نوجوانوں کو منشیات استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے جو سگریٹ کے ذریعے یا انجکشن سے نشہ آور دوا لے رہے ہوتے ہیں۔

اس گروہ میں ان پڑھ اور تعلیم یافتہ یعنی ایک ڈاکٹر، انجینیئر اور ایک ترجمان، سب ہی طرح کے لوگ شامل ہیں۔

’نجات‘ نامی فلاحی تنظیم سے تعلق رکھنے والے طارق سلیمان منشیات کے عادی لوگوں کی عادتیں چھڑانے کے لیے کام کرتے ہیں اور وہ یہاں مستقل لوگوں کو یہ قائل کرنے کے لیے آتے رہتے ہیں کہ وہ منشیات سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنا علاج کروائیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ہم پہلے ہی خود کش حملوں، راکٹ اور بم دھماکوں میں اپنے بچوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ اب منشیات کی عادت دوسری طرح کی دہشت گردی ہے جو ہمارے لوگوں کی جان لے رہی ہے۔‘

18 سالہ جاوید کا تعلق بدخشاں سے ہے جو دس برس سے ہیروئن کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے چجا نے بچپن میں ہی انہیں ہیروئن کا عادی بنا دیا تاکہ وہ زیادہ محنت سے کام کر سکیں۔

جاوید کہتے ہیں، ’میں اپنی زندگی سے نفرت کرتا ہوں۔ ہر شخص مجھ سے نفرت کرتا ہے۔ اس عمر میں مجھے تو سکول میں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن میں نشئی ہوں۔‘

جاوید کے والد حیات نہیں ہیں۔ ان کی معذور ماں اپنے بیٹے کے لیے پریشان ہیں۔ ان کو ایک ہی فکر ہے کہ ان کا بیٹا نشے سے نجات پائے لیکن وہ خود اس کی ہیروئن کے لیے بھیک مانگتی ہیں کہ کہیں وہ خود چوری نہ کرنے لگے۔

وہ کہتی ہیں، ’میں اکثر جاوید سے کہتی ہوں کہ اگر میں دنیا میں نہ رہی تو پھر اس کا ٹھکانہ اس پل کے نیچے ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو منشیات کے عادی ہیں۔‘

رات کو ندی کے پتھریلے کنارے پر نشے کے عادی افراد کا مجمہ دیکھا جا سکتا ہے جنھیں پولیس اکثر مار پیٹ کر کے منتشر کر دیتی ہے۔ کئي بار تو پولیس بعض نشئیوں کو اٹھا کر دریا میں ہی پھینک دیتی ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں افغانیوں کے منشیات کے عادی ہونے کی وجوہات بھی بڑی پیچیدہ ہیں۔ گذشتہ ایک عشرے سے ملک تشدد کی زد میں ہے اور یہ اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔

نشے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ افغانستان اس وقت 40 فیصد سے زیادہ بے روزگاری کی لپیٹ میں ہے۔ منشیات کے ایک عادی فاروق کہتے ہیں، ’اگر میرے پاس روزکار ہوتا تو شاید میں یہاں نہیں ہوتا۔ میں تو نشہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کے لیے کرتا ہوں۔‘

افغانستان میں افیم کی کاشت بہت عرصے سے ہوتی چلی آئی ہے اور وہاں اس کی پیداوار بھی اچھی ہوتی ہے۔ 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو یہ بھی کہا گيا تھا کہ منشیات کی پیداوار کو ختم کیا جائے گا۔

لیکن بیرونی افواج ابھی تک طالبان سے لڑنے میں مصروف رہی ہے اور اسے خود اتنی مشکلات کا سامنا ہے کہ افیم کی زراعت جیسے مسئلے پر توجہ اس کے لیے بہت دور کی بات ہے۔

افغانستان میں افیم کا استعمال بطور دوا بھی ہوتا رہا ہے اور بعض دفعہ لوگ اس طرح بھی منشیات کے عادی ہوجاتے ہیں۔

مزار شریف کے ایک ہسپتال میں ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کی پیدائش کے وقت انھوں نے جریانِ خون روکنے کے لیے افیم کا استعمال کیا۔ بعد میں جب بچے کو کھانسی لگ گئی تو اس کا علاج کرنے کے لیے بھی اسے ماں نے افیم کھلائی اس طرح اب حالت یہ ہے کہ ماں بیٹے دونوں ہی افیم کے عادی ہوگئے ہیں۔

منشیات کے عادی لوگوں میں 40 فیصد خواتین اور بچے ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ان افراد کو کہیں سے مدد بھی نہیں مل پاتی۔

حکومت کی جانب سے کوئی خاص طبی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔ ملک بھر میں منشیات سے نجات حاصل کرنے کے صرف 95 مراکز ہیں، جن میں صرف سو دو ہزار افراد کے لیے ہی جگہ ہے۔ حکومت نے اس کے لیے بجٹ بھی صرف 22 لاکھ ڈالر مختص کی ہے۔

افغانستان کو جہاں اس وقت کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے وہیں منشیات بھی اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جس طرح افغانستان میں جاری جنگ اور اس کے بعد کی صورت حال خطرات سے پر ہے، ویسے ہی منشیات کے خلاف جنگ بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔

اسی بارے میں