نوبیل انعام بائیس لاکھ ڈالر میں نیلام

ڈی این اے کی دریافت پر برطانوی سائنسدان فرانسس کرک کو دیا جانے والا نوبیل انعام نیوریاک میں بائیس لاکھ ستّر ہزار ڈالر میں نیلام ہوا ہے۔

شنگھائی سے تعلق رکھنے والے جیک وینگ اس نوبیل میڈل کے نئے مالک ہیں اور وہ چین میں ایک بایو میڈیکل کمپنی چلاتے ہیں۔

پروفیسر کرک نے یہ نوبیل انعام 1962 میں جیتا تھا اور یہ ان کے ورثاء کی جانب سے نیلامی کے لیے پیش کی گئی دس اشیاء میں سے ایک تھا۔

بدھ کو فرانسس کرک کا اپنے بارہ سالہ بیٹے کو تحریر کیا گیا ایک خط 53 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔ اس خط میں فرانسس نے اپنے بیٹے کو ڈی این اے کی ڈبیل ہیلکس شکل کے بارے میں بتایا تھا۔

نیویارک میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ نیلامی میں نوبیل انعامی میڈل کے لیے سب سے زیادہ بولی دینے والے جیک وینگ کا کہنا ہے کہ وہ اس میڈل کے لیے اس سے دگنی قیمت بھی ادا کرنے کو تیار تھے جو کہ اب انہوں نے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کمپنی میں تحقیقی عمل کو فروغ دینے کے لیے نئے طریقوں کی تلاش میں ہیں۔

جیک کے مطابق ’ہم ایک کمیٹی بنائیں گے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ کن سائنسدانوں نے نئی ٹیکنالوجی میں حصہ ڈالا ہے اور پھر ہم اس مقابلے کے فاتح کو یہ نوبیل میڈل اور سند دے دیں گے۔‘

فرانسس کرک کی پوتی کیندرا کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے میڈل اور دیگر سامان نیلام کرنے کا فیصلہ سائنسی تحقیق کے لیے رقم جمع کرنے کی خاطر کیا اور نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

خیال رہے کہ یہ تاریخ میں صرف دوسرا موقع ہے کہ کوئی نوبیل انعام کسی عوامی نیلامی میں فروخت ہوا ہو۔