اوباما کی آمدن میں کمی

Image caption امریکی صدر اوباما کی آمدنی میں کمی کی وجہ ان کی کتاب کی فروخت میں کمی بتائی جاتی ہے جبکہ ان کی تنخواہ چار لاکھ ڈالر سالانہ ہے

امریکی صدر براک اوباما کے 2012 کے ٹیکس کے جمع کروائے گئے گوشواروں کے مطابق ان کی آمدنی 608611 ڈالر تھی جو 2011 کے مقابلے پر 20 فیصد کم تھی۔

اوباما کی آمدنی میں کمی کی وجہ ان کی کتاب کی فروخت میں کمی بتائی جاتی ہے۔ ان کی تنخواہ چار لاکھ ڈالر سالانہ ہے۔

انھوں نے اور مشیل اوباما نے 18.4 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کیا اور 33 مختلف خیراتی اداروں کو 150034 ڈالر عطیہ کیے۔

صدر اوباما جس شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، وہ اگلے سال کانگریس میں موجود رپبلکنز کے ساتھ ایک معاہدے کی وجہ سے بڑھ جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جے کارنی نے صدر اور نائب صدر کے ٹیکس کے گوشوارے جاری کرتے ہوئے کہا، ’صدر اوباما کے اپنے پیش کردہ معاہدے کی رو سے امیر افراد کے ٹیکسوں میں اضافہ تجویز کیا گیا تھا تاکہ متوسط آمدنی والے افراد کی جانب سے دیے گئے ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جا سکے۔‘

Image caption صدر اوباما کی 2009 میں آمدن پچپن لاکھ ڈالر تھی جس میں نمایاں حصہ ان کی کتابوں کی فروخت سے تھا۔

صدر اوباما نے اپنی آبائی ریاست الینوئے میں29450 ڈالر ریاستی انکم ٹیکس بھی ادا کیا۔

اوباما خاندان کی خیراتی اداروں کو دیے گئے عطیات میں سے دو تہائی فشر ہاؤس فاؤنڈیشن کو دیے گئے جو فوجیوں، سابق فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔

2009 کے بعد سے صدر اوباما کی آمدن میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ صدر اوباما کی اُس سال آمدن 55 لاکھ ڈالر تھی جس میں نمایاں حصہ ان کی کتابوں کی فروخت سے تھا جس میں ’ڈریمز فرام مائی فادر‘ یا (میرے والد کے خواب) اور ’دی اوڈیسٹی آف ہوپ‘ یا (امید کا سفر) شامل ہیں۔

نائب صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ جِل بائیڈن کی آمدن 385072 ڈالر تھی اور انہوں نے 87851 ڈالر وفاقی ٹیکس ادا کیا۔