چین نے عسکری معلومات ظاہر کر دیں

Image caption پیپر میں امریکی کی ایشیاء میں بڑھتی ہوئی موجودگی کی بنیاد پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین نے پہلی بار ملک کے فوجی یونٹوں کے بارے میں معلومات ظاہر کر دیں ہیں۔

چین کے محمکمۂ دفاع کی جانب سے جاری ایک وائٹ پیپر کے مطابق ملک کی بری فوج میں کل8,50,000 افسر، بحری فوج میں 2,35,000 اور فضائیہ میں 3,98,000 عملہ ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق بری فوج کے مجموعی طور پر اٹھارہ کور سات فوجی علاقوں بیجنگ، نانجینگ، چینگدو، گاؤنگژو، شینیانگ، لانژو اور ژینین میں قائم ہیں۔

وائٹ پیپر کے مطابق ملک کی فضائیہ کی کمانڈ بھی ان سات فوجی علاقوں میں قائم ہے جبکہ بحری فوج کے تین بیڑے ہیں۔

پیپر میں چین کی دوسری آرٹیلری فورس کی بھی وضاحت کی گئی ہے جس میں چین کے کیمائی اور روایتی میزائل نظام بھی شامل ہے۔

پیپر میں کہا گیا ہے کہ یہ فورس چین کے سٹریٹیجک ڈیٹرنس کے لیے انتہائی اہم ہے جس کا بنیادی مقصد دوسرے ممالک کی جانب سے چین پر ہونے والے کیمائی حملے کو روکنا ، جوابی کیمیائی حملے کرنا اور روایتی میزائل سے اہداف کو صحیح طریقے سے نشانہ بنانا ہے۔

پیپر میں امریکی کی ایشیاء میں بڑھتی ہوئی موجودگی کی بنیاد پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پیپر میں کہا گیا ہے ’امریکہ ایشیاء اور بحرالکاہل میں اپنی سکیورٹی سٹریٹیجی کے لیے جگہ بنا رہا ہے۔ امریکہ نے اس خطے میں اپنے فوجی اتحاد کو مضبوط کیا ہے اور اکثر خطے میں حالات کوخراب کرتا ہے‘۔

خیال رہے کہ امریکہ نے صدر براک اوباما کی پالیسی کے تحت حالیہ سالوں میں ایشیاء میں اپنی فوجی طاقت کو بڑھایا ہے۔

وائٹ پیپر میں چین کی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق کے مسائل پر بات کی گئی ہے اور متنازع جزیرے کے حوالے سے جاپان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں