’مغرب کو شامی تنازع کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی‘

Image caption صدر بشارالاسد کا یہ انٹرویو شام کی آزادی کے موقع پر سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا کہ مغربی ممالک کو شام کے تنازع میں القاعدہ کی حمایت کرنے کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

شامی صدر نے ایک انٹرویو میں اپنے ملک کی صورت حال کا موازنہ افغانستان سے کیا جہاں ان کے بقول امریکہ اسلام پسندوں کی حمایت کر رہا ہے اور جس کی وجہ سے وہاں طالبان اور القاعدہ کا اثرو رسوخ بڑھ رہا ہے۔

بشارالاسد کا یہ انٹرویو شام کی آزادی کے موقع پر سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

صدر بشارالاسد نے اس انٹرویو میں خاص طور پر سنہ 1980 میں امریکی کی جانب سے افغان مجاہدین کو سویت یونین کے خلاف لڑائی میں دی جانے والی امداد کا ذکر کیا جو ان کے بقول دنیا میں جہاد کی بڑی وجہ بنی۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کو القاعدہ کی مالی مدد کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

صدر بشارالاسد کا کہنا تھا کہ مغرب یہی کام اب شام، لیبیا اور دیگر جگہوں پر کر رہا ہے اور اسے اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

شام کے صدر نے کہا کہ اس تنازع میں ان کی شکست بہت تباہ کن ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جیت کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں شام کا خاتمہ ہو جائے گا اور میرے خیال میں شامی کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔

صدر بشارالاسد نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ شام میں جنگ جاری ہے اور وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صرف شامی باشندوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ اقتدار میں رہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ شام کے باغی النصرہ فرنٹ نے حال ہی میں القاعدہ کی وفاداری کا عہد کیا ہے۔

النصرہ فرنٹ امریکی کی جانب سے جاری کی گئی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے۔

النصر فرنٹ شام میں حکومت مخالف مؤثر طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ گروپ شام میں سنہ 2012 میں سے سب سے پہلے سامنے آیا اور اس کا شمار شدت پسند اسلامی گروپوں میں ہوتا ہے۔

اس گروپ کے بارے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شام میں ہونے والے زیادہ تر خود کش دھماکوں کے پیچھے اس گروپ کا ہاتھ ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کو شام بھیجنے کے لیے شامی حکومت کی اجازت کا انتظار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ ٹیم شام کے شہر حلب سے باہر ایک گاؤں میں گزشتہ ماہ کیے جانے والے کیمیائی حملے کی تفتیش کرنے کے لیے بھیجی جائے گی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دمشق اس واقعے کی محدوو پیمانے پر تفتیش کروانا چاہتا ہے تاہم برطانیہ اور فرانس اس کی وسیع پیمانے پر تفتیش چاہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اب تک 60,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں