بوسٹن دھماکوں میں ’پریشر ککر استعمال کیے گئے‘

Image caption دھماکوں میں ممکنہ طور پر پریشر ککر بم استعمال کیے گئے تھے

امریکہ میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی شہر بوسٹن میں ایک میراتھن دوڑ میں استعمال ہونے والے بم ممکنہ طور پر پریشر ککر میں نصب کیے گئے تھے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی اور وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے نشر کردہ بلیٹن میں ایک سیاہ رنگ کا پشتی بیگ، ایک دھماکا خیز آلہ اور دھات کے ٹکڑے دکھائے گئے ہیں۔

سوموار کو دوڑ کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

مرنے والوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ، ایک 29 سالہ عورت اور ایک چینی طالب علم شامل ہیں۔

بوسٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کہتے ہیں کہ منگل کو شہر بھر میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائیہ تقاریب منعقد کی گئیں۔ بوسٹن کے باسی اس مخمصے میں ہیں کہ آخر کسی نے ان کی محبوب دوڑ کو کیوں نشانہ بنایا۔

صدر اوباما جمعرات کو بوسٹن میں ایک ماتمی تقریب میں شرکت کریں گے۔

ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ رچرڈ ڈے لاریئرز نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے نائلون کے ٹکڑے، بال بیئرنگ اور کیلیں ملی ہیں جنھیں ’ممکنہ طور پر ایک پریشر ککر سے بنائے گئے آلے میں رکھا گیا تھا‘۔

Image caption بوسٹن کے شہری اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ کسی نے ان کی محبوب دوڑ کو کیوں نشانہ بنایا

انھوں نے کہا کہ اس مواد کو ریاست ورجینیا میں واقع ادارے کی تجربہ گاہ میں بھیجا رہا ہے جہاں ماہرین اس کی ساخت اور اجزا کا تجزیہ کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا ’ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے۔ فی الحال کسی نے ذمے داری قبول نہیں کی، اور ملزمان کی شناخت اور مقاصد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے تفتیش سے وابستہ ایک شخص کے حوالے سے بتایا ہے کہ بموں کو 1.6 گیلن کے پریشر ککروں میں رکھا گیا تھا، ایک میں دھات کے ٹکڑے تھے اور دوسرے میں بال بیئرنگ اور کیلیں۔

اس شخص نے بتایا کہ بموں کو ایک سیاہ بیگ میں رکھ کر زمین پر رکھ دیا گیا تھا۔

ہمارے نمائندے نے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ایک سرکٹ بورڈ اور بیٹری بھی ملے ہیں، جنھیں بم چلانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بموں میں دھات کے ٹکڑے موجود تھے۔ کئی زخمیوں کے اعضا کاٹنا پڑے۔

اسی اخباری کانفرنس میں میساچوسٹس کے گورنر ڈیول پیٹرک نے کہا کہ بوسٹن کے شہری اس صدمے کا مقابلہ کریں گے۔

انھوں نے کہا ’ہم ایک برادری ہیں۔ ہم سب اس (دکھ) میں برابر کے شریک ہیں۔‘

صدر اوباما جمعرات کی صبح کو بوسٹن میں ایک بین المذہبی ماتمی تقریب میں شرکت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر اوباما نے کینسس کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے ان بم دھماکوں کو دہشت گردی کی واردات قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں