بوسٹن دھماکے: مشتبہ افراد کی تصاویر جاری

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بوسٹن دھماکوں کی تحقیقات کے سلسلے میں دو مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کی ہیں۔

سی سی ٹی وی کے ذریعے لی گئی تصاویر میں دو افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ان تصاویر میں ایک مشتبہ شخص نےگہرے رنگ کی جبکہ دوسرے نے سفید ٹوپی پہن رکھی ہے۔

ایف بی آئی ایجنٹ رچرڈ ڈے لاریئرز نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ان افراد کے قریب نہ جائیں۔

جمعرات کی شام بوسٹن ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رچرڈ رچرڈ ڈے لاریئرز کا کہنا تھا کہ ہم ان دو مشتبہ افراد کو بہت خطرناک اور مسلح سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو فوٹیج میں سفید ٹوپی پہنے مشتبہ شخص نے جائے وقوعہ کے قریب دوسرے دھماکے کے بعد فورم ریستوران کے سامنے اپنا بیگ رکھا۔

اس سے پہلے امریکی صدر باراک اومابا نے بوسٹن دھماکوں میں ہلاک ہونے والےافراد کی دعائیہ تقریب میں شرکت کی اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرانے تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بوسٹن کے رومن کیتھولک کتھیڈرل میں منعقد ہونے والی اس دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا باراک اوباما نے کہا کہ شہر میں ہونے والے دھماکوں نے ہر شخص کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کسی کو بھی نہ صرف بوسٹن بلکہ امریکہ کی بےخوفی کی فضا کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

براک اوباما نے کہا کہ دہشت گردوں نے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ انہوں نے غلط شہر کا انتخاب کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ’ہم اس واقعے کی تہہ تک پہنچیں گے اور پتہ چلائیں گے کہ ہماری شہریوں کو کس نے نقصان پہنچایا اور اس کے ذمہ داروں کو ڈھونڈ لیں گے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے‘۔

یاد رہے کہ پیر کو بوسٹن میں میراتھن دوڑ کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو دھماکوں میں 3 افراد ہلاک اور 170 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے بدھ کو تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ میراتھن دوڑ میں استعمال ہونے والے بم ممکنہ طور پر پریشر ککر میں نصب کیے گئے تھے۔

تفتیش کاروں نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے نائلون کے ٹکڑے، بال بیئرنگ اور کیلیں ملی ہیں جنھیں ’ممکنہ طور پر ایک پریشر ککر سے بنائے گئے آلے میں رکھا گیا تھا‘۔

اسی بارے میں