بغداد میں دھماکے،27 ہلاک، درجنوں زخمی

عراق میں حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد کے ایک کیفے میں ہونے والے بم حملے میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک خود کش حملہ آور نے ملک کے مغربی حصے میں واقع ایک کیفے میں داخل ہو کر خود کو اڑا لیا۔

کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

تشدد کا تازہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جب عراق میں 20 اپریل کو صوبائی انتخابات ہونے ہیں۔

پولیس نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ امدادی کارکن عمارت کے ملبے کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں پیر کو سلسلہ وار بم حملوں میں کم سے کم 31 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

عراق میں گزشتہ کچھ عرصے سے سنی اور شعیہ مسلمانوں میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

عراق کی سنی اکثریتی آبادی وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ملک میں گزشتہ کچھ عرصے سےالقاعدہ سے تعلق رکھنے والے سنی شدت پسندوں نے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کئی حملے کیے ہیں جن میں عام شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

عراق میں اگرچہ سنہ 2006 اور2007 کے مقابلے میں تشدد میں کمی آئی ہے تاہم اب بھی وہاں بم حملے ہوتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں