غزہ کے ایتھلیٹس کو رسائی دینے سے انکار

Image caption حقوق انسانی کی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کے فیصلے پر تنقید کی ہے

اسرائیل نے غزہ کے ایتھلیٹس کو غربِ اردن کے شہر بیت اللحم میں منعقد ہونے والی میراتھن میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں پہلی میراتھن رواں ماہ کی اکیس تاریخ کو منعقد ہو رہی ہے اور اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایتھلیٹس غزہ سے باہر نکلنے کے معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں۔

غزہ سے ایک سابق اولمپیئن ندار المصری سمیت بائیس ایتھلیٹس کو میراتھن میں شرکت کی توقع تھی۔

ایتھلیٹس، میراتھن کے منتظمین اور فلسطین کی اولمپک کیمٹی نے اسرائیلی حکام سے کہا تھا کہ وہ اپنے موقف کا دوبارہ جائزہ لیں تاہم ابھی تک اس ضمن میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

فلسطین کی اولمپک کمیٹی کی ترجمان سمعہ ال وزیر کا کہنا ہے کہ’اسرائیل کو اس معاملے کو خالصتاً کھیلوں کے مقابلے کے طور پر دیکھنا چاہیے‘۔

ان کے مطابق ’یہ ایونٹ مغربی کنارے میں منعقد ہو رہا ہے اور اس میں شرکت کا حق نہ صرف ایتھلیٹس کو بلکہ تمام فلسطینیوں کو ہے‘۔

واضح رہے کہ اسرائیل غزہ سے آمدورفت کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے اور فلسطینیوں کا غربِ اردن تک کا سفر انتہائی مشکل بن چکا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی حدود میں داخل ہونے اور وہاں سے غربِ اردن تک رسائی دینا صرف غیر معمولی انسانی ہمددری خاص طور پر طبی معاملات میں ممکن ہے‘۔

اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر حماس کی حکمرانی ہے اور اسرائیل اسے ’دہشت گرد‘ تنظیم تصور کرتا ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

آمد و رفت کی آزادی کے لیے کام کرنے والی ایک اسرائیلی تنظیم غیشا نے اسرائیل فوج کے فیصلے پر اپیل کا خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو میراتھن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

غشا کی قانونی امور سے متعلق ڈائریکٹر نومی ہیگر نے خط میں لکھا ہے کہ’ہمارے موکلوں کو پہلی آل فلسطین میراتھن میں شرکت کی اجازت دے کر عزت دینی چاہیے‘۔

اسی بارے میں