شامی ہتھیار:’اسرائیل کو کارروائی کا حق ہے‘

Image caption نتن یاہو مارگریٹ تھیچر کے جنازے میں شرکت کرنے اور برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کرنے لندن آئے ہوئے ہیں

اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیل کو شام کے ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر طیارہ شکن اور کیمیائی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے تو اس سے علاقے کا منظرنامہ بدل جائے گا۔

بین الاقوامی برادری کی طرف سے صدر بشارالاسد کے مخالفین کو ہتھیار فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے تاہم خدشہ ہے کہ اگر یہ ہتھیار اسلام پسند باغیوں کے ہاتھ لگے تو وہ انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسی یہ ہے کہ شامی تنازع میں نہ الجھا جائے لیکن حالیہ مہینوں میں جب اسرائیلی کے زیرِانتظام جولان کی پہاڑیوں پر شام کی جانب سے فائرنگ کی گئی تو اسرائیل نے اس کا جواب دیا۔

اسرائیل نے 1967 میں جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس علاقے کو اپنے ملک میں ضم کر دیا تھا تاہم بین الاقوامی برادری نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔

نتن یاہو مارگریٹ تھیچر کے جنازے میں شرکت کرنے اور برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کرنے لندن آئے ہوئے ہیں۔

بی بی سی کی لِز ڈیوسٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تشویش ہے، ’کون سے باغی اور کون سا اسلحہ؟‘

انھوں نے کہا، ’ہماری بنیادی تشویش وہ اسلحہ ہے جو پہلے ہی سے شام میں موجود ہے۔ وہاں طیارہ شکن اسلحہ موجود ہے، وہاں کیمیائی ہتھیار ہیں، اور دوسرے بہت، بہت خطرناک ہتھیار موجود ہیں جو منظرنامہ بدل سکتے ہیں۔‘

’یہ اسلحہ حالات بدل سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے۔ اس سے ساری دنیا کے لیے دہشت گردی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمارے مفاد میں تو ہے ہی کہ ہم اپنا دفاع کریں، لیکن یہ دوسرے ملکوں کے مفاد میں بھی ہے۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل شام کے بارے میں زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرے گا تو نتن یاہو نے کہا، ’ہم جارحانہ نہیں ہیں۔ ہم فوجی ٹکراؤ نہیں چاہتے لیکن ضرورت پڑنے پر ہم اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں، اور لوگ جانتے ہیں کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نپا تلا بھی ہے اور سنگین بھی۔‘

نتن یاہو نے اس بات کی تصدیق نہیں کی آیا اسرائیل نے اس ماہ جنوری میں ایک شامی فوجی کاروان پر فضائی حملہ کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کاروان لبنان کی جنگ جو تنظیم حزب اللہ کو اسلحہ فراہم کرنے جا رہا تھا۔

اسی بارے میں