ورلڈ سروس بجٹ کی صورتحال ’ناقابلِ قبول‘

بی بی سی
Image caption بی بی سی ورلڈ سروس 80 سال سے زیادہ عرصے سے اپنی نشریات پیش کر رہا ہے

برطانیہ کے ارکانِ پارلیمان نے بی بی سی ورلڈ سروس کے لیے ایسے وقت میں بجٹ کی غیر یقینی صورتِ حال کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے جب ادارہ اس سروس کو چلانے کے لیے تمام فنڈنگ خود کرنے کی طرف گامزن ہے۔

واضح رہے کہ بی بی سی ورلڈ سروس کے لیے برطانیہ کے دفترِ خارجہ کی فنڈنگ اپریل 2014 میں ختم ہو جائے گی اور اس کے اخراجات لائسنس فیس سے پورے کیے جائیں گے۔

دفترِ خارجہ کی کمیٹی نے کہا ہے کہ ورلڈ سروس صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکی ’کیونکہ بی بی سی نے ابھی تک اپنا آپریٹنگ لائسنس جاری نہیں کیا ہے۔‘

تاہم بی بی سی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ بی بی سی ورلڈ سروس کو لائسنس کا مسودہ بھیج دیا گیا ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کے ایک ترجمان نے کہا کہ آئندہ اپریل تک فنڈنگ کے ذرائع میں تبدیلی سے استحکام آئے گا۔

لیکن ارکانِ پارلیمان کی کمیٹی نےکہا ہے کہ ورلڈ سروس اس بابت کس طرح تیاری کر سکتی ہے جب تبدیلی سے چند مہینے پہلے’اگر اس کو اس کے لیے یا اس کے بجٹ کے لیے رکھی گئی ترجیحات، اہداف کا پتہ نہ ہو۔‘

ان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ہمیں نہیں لگتا کہ اتنے کم وقت میں بی بی سی ورلڈ سروس اپنی ترجیحات اور مقاصد کے حصول کے لیے صحیح منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔‘

بی بی سی ٹرسٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم بی بی سی ورلڈ سروس کے ساتھ لائسنس فیس کی طرف جانے پر مسلسل بات چیت کر رہے ہیں تاکہ یہ عمل بغیر کسی مسئلے کے مکمل ہو جائے اور ہم پہلے ہی سے کمیٹی کی کئی سفارشات پر عمل درآمد کر چکے ہیں۔‘

بیان میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ’پہلے سے ورلڈ سروس کے ساتھ لائسنس کے مسودے پر صلاح ومشورہ کر رکھا ہے‘ اور وہ اس پر رائے عامہ حاصل کرنے کے لیے اسے موسم گرما میں شائع کریں گے۔

کمیٹی نے بی بی سی کے ایگزیکٹو بورڈ میں ورلڈ سروس کی ڈائریکٹر آف نیوز کے بجائے’کسی قسم کی بلاواسطہ نمائندگی‘ کی بات کہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی کے مفادات دوسرے شعبوں کے مفادات سے ’براہ راست متصادم‘ ہیں۔

Image caption بی بی سی ورلڈ سروس کو مسلسل کٹوتیوں کا سامنا ہے۔

اکتوبر میں ورلڈ سروس نے اعلان کیا تھا کہ چار کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ بچانے کے لیے مزید 73 ملازمتیں ختم کی جائیں گی جن میں سے 25 ملازمتیں انگریزی زبان کے شعبے سے جائيں گی۔

واضح رہے کہ سنہ 2010 میں حکومت کی فنڈنگ میں کمی کے بعد سے تین کروڑ پاؤنڈ کی بچت کی گئي تھی۔

کمیٹی نے متنبہ کیا ہے ایسی جگہ جہاں سامعین کو ٹی وی اور انٹرنیٹ کی سہولتیں فراہم ہیں اور شارٹ ویوز کا بازار ماند پڑتا جا رہا ہے وہاں شارٹ ویوز ریڈیو کا ختم کیا جانا منطقی نتیجہ ہے تاہم وہاں بھی ایسی چیزوں کے لیے جگہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ورلڈ سروس کو عالمی سطح پر ایسے مخصوص علاقوں پر توجہ دینی چاہیے جہاں بی بی سی کے خاطر خواہ سامعین ہیں جیسے بھارت کے دیہی علاقے اور افریقہ جہاں ابھی بھی لوگ شارٹ ویو ریڈیو پر بھروسہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ارکان پارلیمان کی کمیٹی برطانیہ کے دفتر خارجہ اور برٹش کونسل کے امور پر نظر رکھتی ہے اس کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر برطانیہ کے سفیر متعدد قسم کی زبانوں میں مہارت نہیں رکھیں گے تو برطانیہ کی ساکھ اور اس کے بااعتبار ہونے پر بھی اس بات سے خاطر خواہ اثرات مرتب ہونگے۔

اسی بارے میں