’میرا بیٹا فرشتہ صفت ہے‘

Image caption جوہر کی تلاش کے لیے بوسٹن کے نواحی علاقے میں وسیع پیمانے پر تلاشی مہم جاری ہے

بوسٹن میراتھن بم دھماکوں کے ملزم 19 سالہ جوہر سارنےیف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ نسلی چیچن تھے، اور دس برس سے زیادہ عرصے تک امریکہ میں مقیم تھے۔ دوسرے ملزم 26 سالہ تیمرلان سارنےیف ان کے بھائی تھے، جو پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔

جوہر کی تلاش کے لیے بوسٹن کے نواحی علاقوں پر بہت بڑے پیمانے پر پولیس آپریشن جاری ہے اور تمام علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ملزمان کے چچا روسلان سارنی نے امریکی ٹی وی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بھتیجوں کے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی خبر سن کر صدمے کی حالت میں ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے امریکی ریاست میری لینڈ میں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے جذباتی انداز میں اپنے بھتیجے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو ’خاندان کی خاطر‘ پولیس کے حوالے کر دیں۔

انھوں نے کہا، ’ہم مسلمان اور چیچن ہیں۔ کسی نے ان کی برین واشنگ کر کے انھیں شدت پسند بنا دیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ دونوں بھائیوں نے امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔ جوہر نے ہائی سکول (12ویں جماعت) ختم کر لی تھی اور اب وہ کالج میں پڑھتے تھے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے داغستان میں ملزمان کے والد انزور سارنےیف سے بات کی، جنھوں نے کہا کہ میرا بیٹا جوہر بہت ذہین ہے اور میڈیکل کا طالب علم ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا بیٹا ’فرشتہ صفت‘ ہے۔

انزور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے چھوٹے بیٹے برین سرجن بننا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ان کے بیٹوں کو سیکرٹ سروس نے پھنسایا ہے۔

چچا نے ہلاک ہونے والے بھائی تیمرلان کے بارے میں کہا کہ وہ بہت نکمے تھے اور انھیں نہیں معلوم کہ وہ کیا کرتے تھے۔

بی بی سی ماسکو کا کہنا ہے کہ جوہر داغستان سے 2001 یا 2002 میں امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے سکول کا کہنا ہے کہ وہ دو سال تک وہاں پڑھتے رہے اور یہ کہ وہ کرغزستان سے آئے تھے۔

کیمبرج شہر کی مقامی انتظامیہ کی ویب سائٹ کے مطابق جوہر نے مئی 2011 میں شہر کی طرف سے دیا جانے والا وظیفہ جیتا تھا۔

چیچنیا طویل عرصے سے روس کے ساتھ برسرِپیکار ہے۔ 1990 کی دہائی میں اس نے روس کے خلاف آزادی کی جنگ شروع کی تھی، جس میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

روسی سوشل ورک وی کونتاکتے جوہر سارنےیف کا پروفائل موجود ہے، جس کے مطابق وہ کیمبرج میں کیمبرج رنج لیٹن سکول کے طالب علم تھے۔ اس سے قبل انھوں نے 1999 سے 2001 تک داغستان کے مرکزی شہر ماخاتسکالا میں تعلیم حاصل کی۔

سوشل نیٹ ورک کے مطابق جوہر اسلام پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے صفحے پر کہا، ’زندگی میں بنیادی چیزیں دو ہیں، مرتبہ اور سونا۔‘

تیمرلان غیرپیشہ ور باکسر تھے جنھوں نے بنکر ہل کمیونٹی کالج سے ایک سیمسٹر کی چھٹی لے لی تھی تاکہ باکسنگ کے ایک بڑے مقابلے کے لیے تربیت حاصل کر سکیں۔

ایک آن لائن فوٹو البم میں تیمرلان کی متعدد تصویریں موجود ہیں۔ ملحقہ کیپشنز میں انھوں نے فوٹوگرافر کو بتایا کہ وہ امریکہ کی اولمپک ٹیم میں شامل ہونے کی امید میں زیادہ میچ جیتنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جب تک چیچنیا آزاد نہیں ہو جاتا، وہ امریکہ کی طرف سے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔

ان تصاویر میں سے ایک میں ان کی گرل فرینڈ بھی موجود ہیں۔

تیمرلان کا کہنا ہے کہ وہ بہت مذہبی ہیں۔ انھوں نے فوٹوگرافر کو بتایا کہ وہ شراب اور سگریٹ نہیں پیتے اور کہا، ’خدا نے شراب سے منع کر رکھا ہے۔‘ انھوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آج کے دور میں اخلاقیات ختم ہو گئی ہیں۔

جوہر کے بڑے بھائی تیمرلان بوسٹن کے قریب واٹرٹاؤن میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی پیر کو بوسٹن میراتھن میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں مطلوب ہیں جن میں تین افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں