بوسٹن دھماکے: مفرور ملزم کا تعلق چیچنیا سے ہے

Image caption مشتبہ شخص کی سفید ٹوپی پہنے ہوئے تصویر گزشتہ روز جاری کی گئی تھی

امریکی پولیس پیر کو بوسٹن میراتھن میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث شخص کو گرفتار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ جب کہ بوسٹن کے نواحی علاقوں میں ٹریفک مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے وہاں کسی گاڑی کو آنے یا جانے کی اجازت نہیں ہے۔

بوسٹن سے آنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ مفرور ملزم کا تعلق روسی علاقے چیچنیا سے ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ اس 19 شخص کا نام ژوخار سارنے یف ہے، اور وہ امریکہ میں کم از کم ایک سالہ سے قانونی طریقے سے مقیم تھے۔

حکام نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو بتایا کہ ژوخار (جوہر) کرغزستان میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے پاس میساچوسٹس کا ڈرائیونگ لائسنس ہے۔

مرنے والے ملزم کا نام تیمرلان سارنے یف تھا، جو جوہر کے بھائی تھے، ان کی عمر 26 سال تھی اور وہ روس میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ دونوں بھائی چیچن ہیں اور وہ حالیہ برسوں سے اسی علاقے میں مقیم تھے۔

امریکی ریاست میری لینڈ میں ملزمان کے چچا روسلان سارنی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بھتیجے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو ’خاندان کی خاطر‘ پولیس کے حوالے کر دیں۔

اس سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں بوسٹن پولیس کمشنر ایڈ ڈیوس نے کہا کہ وہ تمام پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔

پولیس نے جمعرات کو اس وقت تلاش کی کارروائی شروع کی جب ایک پولیس اہل کار ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے کیمپس پر مارا گیا۔

دو مشتبہ افراد نے ایک کار اغوا کی اور اپنے تعاقب میں آنے والی پولیس کاروں پر گولیاں برسائیں اور بم پھینکے۔ اس واقعے میں ایک اور پولیس اہل زخمی ہو گیا۔

حکام نے بوسٹن کے مغرب میں واقع ایک نواحی بستی واٹر ٹاؤن میں دو مشتبہ افراد کو ڈھونڈ نکالا، جہاں ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ دوسرا بھاگ گیا جس کی تلاش جاری ہے۔

پولیس نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ دونوں افراد پیر کو بوسٹن میراتھن میں ہونے والے بم دھماکوں میں ماخوذ تھے۔

ایف بی آئی نے دونوں افراد کی کئی تصویریں جاری کی ہیں۔ ان میں سے ایک نے سفید ٹوپی، جب کہ دوسرے نے سیاہ ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ ان میں سے سیاہ ٹوپی والے کو ہلاک کر دیا گیا ہے جب کہ سفید ٹوپی والے کی تلاش جاری ہے۔

تمام علاقہ سیل

حکام نے میساچوسٹس بے کے علاقے میں تمام ٹریفک بند کر دی ہے اور واٹر ٹاؤن میں کسی گاڑی کو آنے یا جانے کی اجازت نہیں ہے۔ واٹر ٹاؤن کے پولیس چیف ایڈورڈ ڈیو نے علاقے کے باسیوں سے کہا، ’ہمیں اس وقت آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘

Image caption بوسٹن پولیس نے ژوخار کی تصویر جاری کی ہے اور کہا ہے کہ مسلح اور خطرناک ہیں

ہوم لینڈ سکیورٹی کے اہلکار کرٹ شوارٹز نے بوسٹن کی نواحی بستیوں واٹرٹاؤن، نیوٹن، والٹہیم، بیلٹن کیمبرج اور ایلسٹن برائٹن کے شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں کے اندر رہیں، اور دکانوں کے مالکان سے کہا کہ وہ تاحکمِ ثانی اپنے کاروبار بند رکھیں۔

نیوٹاؤن کے علاقے کے اوپر فضائی پٹی کو بھی سیل کر دیا گیا ہے اور وہاں سے پروازیں بند کر دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ ہارورڈ یونیورسٹی کو بھی بند کر دیا گیا ہے، اور خصوصی فورس کے اہلکار واٹر ٹاؤن میں گھر گھر جا کر مشتبہ شخص کو تلاش کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقتول پولیس اہلکار جمعرات کی رات کشیدگی کی خبر سن کر وہاں پہنچے تھے جہاں انہیں فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا اور وہ ہسپتال میں چل بسے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث مشتبہ افراد بعدازاں ایک گاڑی چھین کر فرار ہو گئے اور یہ دونوں بوسٹن میراتھن دھماکوں کے سلسلے میں بھی پولیس کو مطلوب ہیں۔ بعد میں انھوں نے کار کے مالک کو بغیر نقصان پہنچائے چھوڑ دیا۔

واٹرٹاؤن میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہاں گولیوں اور دھماکے کی آوازیں سنی ہیں۔

واٹرٹاؤن سے بی بی سی کی نامہ نگار ندا توفیق نے بتایا ہے کہ اگرچہ میڈیا میں مشتبہ شخص کی شناخت کے بارے میں خبریں آ رہی ہیں لیکن حکام نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ علاقے میں سخت کشیدگی کا ماحول ہے، پولیس کے مزید ٹیمیں وہاں پہنچ رہی ہیں اور پولیس نے مزید علاقوں کو سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اسی بارے میں