بوسٹن دھماکوں کا مفرور ملزم گرفتار

پولیس نے کہا ہے کہ بوسٹن کی میراتھن دوڑ میں بم دھماکوں کے نوجوان ملزم بوسٹن شہر کے ایک نواحی علاقے سے پکڑے گئے ہیں۔

19 سالہ جوہر سارنےیف واٹرٹاؤن میں ایک کشتی میں چھپے ہوئے پائے گئے۔ ان کی گرفتاری سے قبل بم دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

جوہر جمعے کو اس وقت پیدل فرار ہو گئے تھے جب ان کے 26 سالہ بھائی تیمرلان سارنےیف پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

پیر کو میراتھن دوڑ میں بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

جب جوہر کو گرفتار کیا گیا اور وہاں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا اور نعرے لگانے لگا۔ بوسٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا، ’پکڑا گیا!!! تلاش ختم۔ دہشت ختم۔ انصاف جیت گیا۔‘

ایک پولیس اہلکار نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ مشتبہ شخص خون سے لت پت تھا۔

واٹر ٹاؤن میں فرینکلن سٹریٹ کے اوپر پولیس ہیلی کاپٹر منڈلا رہے تھے، بم سکواڈ ٹیمیں اور ایمبولنسیں تیار تھیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے فائرنگ اور ایک درجن دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ مقامی ٹی وی چینلوں کا اندازہ ہے کہ پولیس نے ملزم کو حواس باختہ کرنے کے لیے گرینیڈ استعمال کیے ہوں گے۔

ایک مقامی شہری اینا بیڈاریئن نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’تقریباً 50 افراد نے مشین گنیں اٹھا رکھی تھیں اور بلٹ پروف جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔ کچھ کے پاس ڈھالیں بھی تھیں۔ اس کے علاوہ دو بکتر بند گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔‘

اس واقعے سے ایک گھنٹا قبل حکام نے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کا حکم واپس لے لیا تھا، اور ٹرانسپورٹ سسٹم بحال کر دیا تھا۔ خصوصی پولیس کے دستے دن بھر شہر بھر کو چھانتے رہے، جب کہ پورا شہر سیل کر دیا گیا تھا۔

میساچوسٹس کے حکام نے شہر کی ٹرینیوں بھی بند کر دی تھیں اور بوسٹن اور اس کے نواحی علاقوں کی دس لاکھ کے لگ بھگ آبادی کو خبردار کیا تھا کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

جوہر سارنےیف کالج کا طالب علم ہے اور وہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد پیدل فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس پولیس مقابلے میں اس کے بھائی نے پولیس پر بم پھینکے اور 200 سے زائد گولیاں چلائی گئیں۔

دونوں بھائیوں نے جمعرات کی رات ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب کہ ایک اور کو زخمی کر دیا تھا۔

پولیس اور خاندان کے افراد نے دونوں بھائیوں کو شناخت کیا ہے کہ وہ چیچن نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور تقریباً دس سال سے امریکہ میں مقیم تھے۔

امریکی صدر اوباما نے جمعے کی رات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا وہ اس بات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے یہ بھائی کیسے اس حملے کی طرف راغب ہوئے اور آیا انھیں کسی اور کی مدد تو حاصل نہیں تھی۔

ایف بی آئی نے 2011 میں ایک ملک کے کہنے پر تیمرلان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ تاہم انھوں نے بعد میں اسے چھوڑ دیا تھا۔

ان بھائیوں کے والد انزور سارنےیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں خفیہ اداروں نے ان کے بیٹوں کو پھنسایا ہے:

’یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا جسے خفیہ اداروں نے بڑی احتیاط سے ترتیب دیا تھا۔ میرا بیٹا مسجد جایا کرتا تھا۔ سیکرٹ سروس والے ایک دن آئے اور پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔

’اس کے بعد انھوں نے سارا الزام اس پر دھر کر اسے گولی مار دی۔‘

تاہم بھائیوں کے چچا امریکی ریاست میری لینڈ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اپنے بھتیجوں کے میراتھن دھماکوں میں ملوث ہونے پر شرمندگی ہے۔

انھوں نے جوہر پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیں۔

اسی بارے میں