شامی باغیوں کے لیے امریکی امداد میں اضافہ

Image caption امریکی وزیر خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہونے والے ’فرینڈز آف سیریا‘ کے اجلاس میں اس بات کا اعلان کیا

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شامی باغیوں کے لیے امریکہ کی جانب سے غیر مہلک امداد کو دگنا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہونے والے ’فرینڈز آف سیریا‘ کے اجلاس میں اس بات کا اعلان کیا کہ امریکہ شامی باغیوں کو ایک سو تئیس ملین ڈالر کی غیر مہلک امداد فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ صدر براک اوباما ’صدر بشار الاسد کے بعد ایک جمہوری، متحد شام‘ کے قیام سے مخلص ہیں۔

جان کیری نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اب گیارہ ممالک جنہیں فرینڈز آف سیریا کہا جاتا ہے کی جانب سے دی جانے والی ساری امداد اب سے ترکی میں قائم فری سیرین آرمی گروپ کے ذریعے دی جائے گی جس کی قیادت جنرل سلیم ادریس کر رہے ہیں۔

استنبول میں ہونے والے اس اجلاس میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف تمام ممالک کے وزارئے خارجہ جمع تھے۔

جان کیری نے کہا کہ اس اجلاس سے بہت بہتری پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شام میں صورتحال بہت زیادہ خوفناک ہے۔‘

Image caption جان کیری نے کہا کہ صدر اوباما نے انہیں ہدایات دیں ہیں کہ وہ حزبِ اختلاف کی مدد کی کوششوں کو تیز کریں

انہوں نے صدر بشار الاسد کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ بشار الاسد کی حکومت ’بیلسٹک میزائل معصوم لوگوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے اور اپنے ہی ملک کے عوام کے خلاف فضائی قوت استعمال کر کے انہیں دہشت زدہ کر رہی ہے۔‘

جان کیری نے کہا کہ صدر اوباما نے انہیں ہدایات دی ہیں کہ وہ حزبِ اختلاف کی مدد کی کوششوں کو تیز کریں اور یہ کہ فرینڈز آف سیریا ’باہمی اتفاقِ رائے کے بعد ایک عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں مخلص ہیں جس کے بعد ایک نیا سربراہ منتخب کیا جائے گا‘۔

باغیوں نے دوسری جانب فوجی سازوسامان کا مطالبہ کیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ ’جو ہتھیار انہیں ملیں گے وہ غلط ہاتھوں میں نہیں پہنچنے دیے جائیں گے‘۔

اب تک امریکہ اور یورپ نے باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ مغربی اتحادیوں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں یہ ہتھیار کہیں اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں جو القاعدہ سے متاثر ہیں۔

اسی بارے میں