برما: فسادات کے دوران پولیس ’خاموش تماشائی‘

Image caption اس ویڈیو کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان سنار کی دکان پر بدھ بلوائی حملے کر رہے ہیں

بی بی سی کو برما سے ویڈیو فوٹیج ملی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا کہ برما کی پولیس خاموش تماشائی بن کر بدھ بلوائیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر حملے اور ان کے قتل کو دیکھ رہی ہے۔

اس ویڈیو کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان سنار کی دکان پر بدھ بلوائی حملے کر رہے ہیں اور اس جلاؤ گھیراؤ میں واضح طور پر برما کی پولیس کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔

یہ ویڈیو پولیس نےمیکتیلا قصبے میں مارچ کے اواخر میں بنائی جہاں کئی روز تک جاری رہنے والے نسلی فسادات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلوائیوں کی ٹولیاں دکانوں اور گھروں کو لوٹ کر نذرِ آتش کر رہی ہیں۔

ایک منظر میں واضح طور پر شعلوں میں گھرے ایک شخص کو زمین پر لوٹتے دکھایا گیا ہے جس کا جسم جل کر سیاہ ہو چکا ہے اور اس کے قریب ہی کئی پولیس اہلکار بھی نظر آتے ہیں مگر وہ اس کی کوئی مدد نہیں کرتے۔

اس کے ساتھ ہی ایک شخص کی آواز سنائی دیتی ہے ’اس پر پانی ڈالو‘ جبکہ کچھ دیر میں ہی ایک اور آواز سنائی دیتی ہے ’کوئی پانی نہیں اس کے لیے اسے مرنے دو۔‘

Image caption یہ فسادات اس سنار کی دکان سے شروع ہوئے جہاں ہونے والے ایک معمولی جھگڑے نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

اس کے علاوہ ایک اور منظر میں ایک مسلمان نوجوان جسے فرار ہوتے ہوئے ہجوم پکڑ لیتا ہے اور اسے پیٹنا شروع کر دیتا ہے اور ان پیٹنے والوں میں ایک بدھ بھکشو بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک شخص اس نوجوان پر تلوار کا وار کرتا ہے جو بظاہر ہلاک کرنے والا وار بنتا ہے اور ہجوم اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ جاتا ہے۔

اس ویڈیو میں صرف ایک منظر ہے جہاں پولیس کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ مسلمان خواتین اور بچوں کو گھیرے میں لے کر محفوظ مقام تک لے کر جا رہے ہیں جبکہ ان کے گھروں سے اٹھتے شعلے دور سے دکھائی دیتے ہیں۔

اس ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر عینی شاہدین کی جانب سے ملنے والی شہادتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب یورپین یونین اس بات کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے کہ آیا برما پر سے پابندیاں مستقل طور پر اٹھائی جائیں۔

اسی ماہ تین مسلمانوں کو تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے جرم میں 14 برس قید کی سزا سنائی گئی جب کہ کئی مسلمان اور بدھ افراد سے ابھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

Image caption مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان تشدد کے واقعات برما کی رخائن ریاست میں گزشتہ سال جون میں شروع ہوئے

مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان تشدد کے واقعات برما کی رخائن ریاست میں گذشتہ سال جون میں شروع ہوئے۔

سوموار کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ ایک رپورٹ پیش کرنے والی ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ برما کی حکومت رخائن ریاست میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ کی بنیاد ایک سو افراد کے انٹرویوز اور علاقے کے دورے پر رکھی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یورپین یونین برما پر سے پابدنیاں اٹھانے کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

اسی بارے میں