’شام میں سرکاری افواج کے حملے میں متعدد ہلاک‘

فائل فوٹو
Image caption شام کی سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق اس قصبے میں ’حکومتی افواج نے دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچایا‘

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق حکومتی افواج نے دارالحکومت دمشق کے قریب ایک قصبے پر قبضے کی کارروائی کے دوران اسی کے قریب افراد کو ہلاک کر دیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق شامی افواج نے جدیدات الفضل کے قصبے پر حملہ کیا جو کہ پانچ دن تک جاری رہا جس کے دوران شدید لڑائی ہوئی۔

شام کی سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق اس قصبے میں ’حکومتی افواج نے دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچایا‘۔

یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شامی حکومت کی افواج دمشق کے جنوب اور مشرق میں باغیوں کے قبضے سے بعض علاقوں کو خالی کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

لندن میں قائم شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’ایس او ایچ آر‘ کے مطابق انہوں نے اسی افراد کی شناخت کی ہے جنہیں جدیدات الفضل میں ہلاک کیا گیا۔

تنظیم نے ان ہلاکتوں سے متعلقہ ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے اور کہا ہے کہ ان میں سے بعض کو قتل کیا گیا اور اس کا کہنا ہے کہ 250 ہلاکتوں تک کی اطلاعات ہیں۔

یہ واضح رہے کہ ان اطلاعات اور ان معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

روئٹرز نے قریبی علاقے سے ایک انسانی حقوق کے کارکن کے حوالے سے بتایا ہے کہ 85 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

ابو احمد الربی نے کہا کہ ان میں ’وہ 28 افراد شامل ہیں جن کو ایک عارضی ہسپتال میں شام کی سرکاری افواج نے ہلاک کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

حکومتی خبر رساں ادارے سانا نے اس علاقے میں لڑائی کی تصدیق کی ہے۔

اسی بارے میں