افغانستان:ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ،’نو افراد یرغمال‘

Image caption افغانستان میں ہر روز تقریباً ایک سو سویلین ہیلی کاپٹروں کی پروازیں ہوتی ہیں

افغانستان کے مشرقی حصے میں واقع لوگر صوبے کے حلام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے سات ترکوں، دو روسی پائلٹس اور ایک افغان کو یرغمال بنا لیا ہے۔

یہ گروہ اس وقت طالبان کے ہتھے چڑھ گیا جب موسم خراب ہونے کے باعث انہیں ہیلی کاپٹر کو لوگر صوبے کے عذرا ضلعے میں مجبوراً اتارنا پڑا۔

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار گیارہ افراد غیر ملکی تھے اور ان میں امریکی فوجی حکام سمیت دو امریکی مترجم بھی شامل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہیلی کاپٹر پر سوار افراد کو یرغمال بنا کر ہیلی کاپٹر تباہ کردیا ہے۔

خبررساں اداروں کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں سات ترک انجینیئرز، دو رو‎سی ہوا باز اور ایک افغان ہواباز موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو خراسان کارگو ایئر لائنز سے کرایے پر لیا گیا تھا، اور اسے اتوار کی رات لوگر صوبے میں خراب موسم کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

کمپنی کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ انجینیئروں کا تعلق ایک ترک عمارتی کمپنی سے تھا جبکہ ہیلی کاپٹر میں دو غیر ملکی ہوا باز اور ایک افغان ہوا باز بھی سوار تھے۔

اس ضلعے میں طالبان کا اثر رسوخ ہے اور طالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے اس گروہ کو پکڑ رکھا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر خوست سے کابل جا رہا تھا کہ برے موسم کی وجہ سے اترنا پڑا، جس کے بعد جلد ہی جنگ جوؤں نے اسے گھیرے میں لے لیا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر ان کا نہیں ہے۔

ہیلی کاپٹر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا رنگ سفید تھا۔ افغانستان میں جو ہیلی کاپٹر رسد فراہم کرتے ہیں ان کا رنگ سفید ہوا کرتا ہے۔

لوگر کے ڈپٹی پولیس چیف رئیس خان صادق نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یرغمال بنائے جانے والے افراد ترک ہیں، اور یہ کہ انھیں خالی ہیلی کاپٹر ملا تھا۔

بین الاقوامی اتحادی فوج ایساف کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ یرغمالوں کو تلاش کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں امریکی فوجی سوار تھے جن کو طالبان نے حراست میں لے لیا ہے۔

ان کے بقول یرغمالیوں کو نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اتحادی فوج ان افراد سے لاتعلقی کا اظہار کر کے یہ تاثر دے رہی ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار افراد عام شہری تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحادی فوج کی لاتعلقی کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد امریکی فوج کی یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔

افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کہتے ہیں کہ افغانستان میں ہر روز تقریباً ایک سو سویلین ہیلی کاپٹروں کی پروازیں ہوتی ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں واقع جگہوں تک امدادی سامان اور کارکن لے کر جاتے ہیں۔ زیادہ تر ہیلی کاپٹر روسی کمپنیوں سے کرائے پر لیے گئے ہیں۔

یہ علاقہ پاکستان کی سرحد سے بہت قریب ہے۔ ضلعے کے گورنر حمیداللہ حامد نے بتایا کہ یہاں افغان سرکاری فورسز موجود ہیں لیکن طالبان کا غلبہ ہے۔

افغانستان میں ترکی کے تقریباً اٹھارہ ہزار فوجی ہیں جو نیٹو افواج کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن ان کا کام صرف گشت کرنے تک محدود ہے۔ ترکی اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات رہے ہیں۔

اسی بارے میں