’بوسٹن حملہ آور مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے‘

Image caption بوسٹن کے پولیس کمشنر امریکی چینل سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں بات کر رہے تھے

امریکی شہر بوسٹن کے پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ بوسٹن میراتھن پر حملہ کرنے والے بھائی ممکنہ طور پر مزید حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

پولیس کمشنر ایڈ ڈیوس نے سی بی ایس نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جوہر اور تیمرلان سارنیف کے پاس دیسی ساختہ بم اور گرینیڈ تھے۔ جب پولیس نے ان کو گھیرے میں لے لیا تو انھوں نے پولیس پر یہ گرینیڈ پھینکے۔

یاد رہے کہ اعلیٰ سطحی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم جوہر سارنیف سے تفتیش کی منتظر ہے جو اس وقت ہسپتال میں داخل ہیں جہاں ان کی حالت تشویشناک ہے۔

ان بھائیوں میں بڑا تیمرلان جمعرات کی شب پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

اس سے قبل بوسٹن کے میئر نے ایک ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں بھائیوں کا یہ انفرادی فعل تھا اور وہ مزید دھماکوں کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے تھے۔

لیکن اب سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں بات کرتے ہوئے ایڈ ڈیوس نے کہا، ’ہمارے پاس ایسے شواہد ہیں جو جائے حادثہ سے ملے ہیں جن میں دھماکا خیز مواد، اسلحہ جو پھٹ نہیں سکا اور جو اسلحہ ان کے پاس موجود تھا کہ ہم یقین کر سکتے ہیں کہ وہ دوسرے افراد پر حملہ کرسکتے تھے۔‘

Image caption بوسٹن میراتھن کی اختتامی لکیر کے قریب ہونے والے دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 170 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال یہ میری ذاتی رائے ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس جگہ سے ڈھائی سو کارتوس ملے ہیں جہاں یہ موجود تھے اور زمین پر ہر طرف پھٹا یا ان پھٹا دھماکا خیز مواد بکھرا ہوا تھا جسے ہمارے اہلکاروں نے فوری ناکارہ بنایا‘۔

اسی طرح کی ایک اور دھماکا خیز مواد پر مشتمل ڈیوائس اس کار میں ملی جو ان بھائیوں نے چوری کی تھی۔

دوسری جانب دونوں بھائیوں کے گھر والوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑا بھائی تیمرلان امریکہ میں رہتے ہوئے انتہا پسندی کی جانب راغب ہوا۔

اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ بوسٹن میں گذشتہ پیر کو میراتھن دوڑ کے موقع پر ہونے والے دھماکوں کے ملزم جوہر سارنیف کی حالت مستحکم ہے اور ایک خصوصی تفتیشی ٹیم ان سے پوچھ گچھ کے لیے ان کی حالت میں مزید بہتری کی منتظر ہے۔

بوسٹن میراتھن کی اختتامی لکیر کے قریب ہونے والے دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 170 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

19 سالہ چیچنیا نژاد جوہر کو جمعہ کو پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے بعد بوسٹن کے نواحی علاقے واٹرٹاؤن سے حراست میں لیا تھا۔

Image caption اس سے قبل بوسٹن کے میئر نے ایک ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں بھائیوں کا یہ انفرادی فعل تھا اور وہ مزید دھماکوں کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے تھے

دونوں بھائیوں نے جمعرات کی رات ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں بھی ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب کہ ایک اور کو زخمی کر دیا تھا۔وہ جمعرات کی شب سے جاری آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں اپنے بھائی اور اس واقعے کے دوسرے ملزم تیمرلان سارنیف سمیت زخمی ہوئے تھے لیکن تیمرلان زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے تھے۔

جوہر کو مقامی ہسپتال میں کڑی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ میساچوسٹس کے گورنر ڈیول پیٹرک کا کہنا ہے کہ ان کی حالت مستحکم ہے لیکن وہ ابھی بات چیت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

جوہر زخمی حالت میں واٹرٹاؤن میں ایک کشتی میں چھپے ہوئے پائے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے دوران پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں وہ مزید زخمی ہوئے تھے۔

ان سے تفتیش کی ذمہ داری اہم ملزمان سے تفتیش کرنے والے سکیورٹی اداروں کے مشترکہ ’ہائی ویلیو ڈیٹینی انٹیروگیشن گروپ‘ کو دی گئی ہے جو بوسٹن میں جوہر کی حالت میں بہتری کے منتظر ہیں۔

بوسٹن میں ہسپتال کے باہر موجود بی بی سی کے ڈیوڈ ولس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گردن اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں اور اس کا بہت زیادہ خون بہہ چکا ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ تفتیش کاروں کو اس سے بات کرنے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا پڑے۔

سنیچر کو میساچوسٹس کے گورنر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میں اور تحقیقاتی اداروں کے ارکان ملزم کے زندہ بچ جانے کے لیے پرامید ہیں کیونکہ ہمارے پاس لاکھوں ایسے سوال ہیں جن کے ہمیں جواب چاہئیں۔‘

ادھر امریکی حکام اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ جوہر سارنیف پر کون کون سے الزامات عائد کیے جائیں۔امریکہ میں وفاقی سطح پر عوامی سطح پر ہلاکتوں کے لیے ہتھیار کے استعمال کی سزا موت ہے لیکن ریاست میساچوسٹس میں سزائے موت نہیں دی جاتی۔

امریکی صدر اوباما نے جمعے کی رات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا وہ اس بات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے یہ بھائی کیسے اس حملے کی طرف راغب ہوئے اور آیا انھیں کسی اور کی مدد تو حاصل نہیں تھی۔

ایف بی آئی نے 2011 میں ایک ملک کے کہنے پر تیمرلان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ تاہم انھوں نے بعد میں اسے چھوڑ دیا تھا۔

ان بھائیوں کے والد انزور سارنےیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں خفیہ اداروں نے ان کے بیٹوں کو پھنسایا ہے۔

’یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا جسے خفیہ اداروں نے بڑی احتیاط سے ترتیب دیا تھا۔ میرا بیٹا مسجد جایا کرتا تھا۔ سیکرٹ سروس والے ایک دن آئے اور پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔اس کے بعد انھوں نے سارا الزام اس پر دھر کر اسے گولی مار دی۔‘

اسی بارے میں