نائجیریا: لڑائی میں بیسیوں افراد ہلاک

Image caption نائجیریا کو طویل عرصے سے شدت پسندی کا سامنا ہے

شمالی نائجیریا میں فوج اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم 185 شہری ہلاک اور دو ہزار گھر تباہ ہو گئے ہیں۔

جمعے کی شام کو چاڈ کی سرحد کے قریب بگا قصبے میں راکٹوں سے گرینیڈ داغے گئے اور شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

نائجیریا میں طویل عرصے سے شورش جاری ہے۔ 2009 کے بعد سے بوکو حرام نامی اس شورش میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لڑائی کے وقت بگا کے باسی جنگل میں بھاگ گئے تھے۔ جب وہ اتوار کو لوٹے تو دیکھا کہ قصبے کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور گلیوں میں انسانوں اور جانوروں کی لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔

ایک مقامی صحافی نے کہا کہ عسکریت پسند اب پہلے کے مقابلے پر زیادہ بھاری ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

قصبے کے باسیوں نے کہا کہ زیادہ تر لاشیں قصبے میں بھڑک اٹھنے والی آگ سے جل کر ناقابلِ شناخت ہو گئی ہیں۔

ایک شہری بشیر عیسیٰ نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’جمعے کے رات سے تمام لوگ جنگل میں چلے گئے تھے۔ ہم گورنر کے آنے کے بعد واپس آنا شروع ہوئے۔

’قصبے میں کھانا ملنا بڑا مسئلہ بن گیا ہے کیوں کہ بازار جل گئے ہیں۔ ہم اب بھی عورتوں اور بچوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔‘

بوکو حرام نائجیریا میں ایک الگ مسلم ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔

اس کے نام کا مطلب ہے، ’مغربی تعلیم حرام ہے۔‘

اسی بارے میں