افغانستان: سیلاب اور زلزلے سے چوبیس ہلاک

Image caption امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز جلال آباد سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع قصبے مہتار لام میں تھا

افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں بدھ کو آنے والے سیلاب اور زلزلے سے چوبیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ملک کے شمال میں واقع صوبہ بلخ میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے چودہ افراد ہلاک ہوئے اور کئی عمارتیں گر گئیں۔

اس کے علاوہ ملک کے مشرقی علاقے میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع صوبے کنڑ اور ننگہار 5.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئے۔

زلزلے کی وجہ سے دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ڈاکٹروں اور سرکاری اہلکاروں کے مطابق نو افراد ننگہار ہیں ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص کنڑ میں ہلاک ہوا۔

زلزلہ مقامی وقت کے مطابق دو بجے آیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں گھر تباہ ہوگئے اس سے خاص طور پر جلال آباد شہر اور اس کے نواح میں واقع دیہاتی علاقے متاثر ہوئے۔

ضلع کنڑ کے ایک قبائلی سردار ملک معصوم اخونزادہ نے کہا کہ ’لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے ہیں اور وہ کہیں نہیں جا سکتے اور انہوں نے رات کھلے آسمان تلے بارش میں گزاری ہے۔‘

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز جلال آباد سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع قصبے مہتار لام کے قریب تھا۔

زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل اور پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آنے والے زلزلے سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثنا حکام کے مطابق بدھ کو بلخ میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 2500 سے زائد گھر تباہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے۔

سرکاری اہلکاروں نے کہا کہ شولگرا، کیشیندی اور مزارِ شریف کے کمپی سیخ سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

شولگرا کے ضلعی گورنر سراج الدین عابد نے کہا کہ دیہاتوں میں سینکڑوں ایکڑ اراضی تباہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب میں متعدد مویشی بھی ہلاک ہوگئے۔

صوبہ بلخ کے پارلیمان کے ممبران نے متاثرین کے امداد کے لیے افغانستان کی مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں