چین: سنکیانگ میں فسادات،21 افراد ہلاک

Image caption کاشغر قدیم شہر ہے، جہاں نئی آبادیاں بھی ساتھ ساتھ نظر آ رہی ہیں

چین میں حکام کے مطابق مغربی صوبے سنکیانگ میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں پندرہ پولیس اہلکاروں سمیت اکیس افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ فسادات چین کے ضلع باچو میں کاشغر کے نزدیک منگل کی دوپہر شروع ہوئے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے اس حملے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں حالیہ برسوں کے دوران فسادات ہوتے رہے ہیں۔

یہ فسادات ایسے وقت ہوئے جب مسلم گروہ ویغور اور ہان چینی قومیتوں میں نسلی تناؤ موجود ہے۔

واضح رہے کہ چین کے مغربی صوبے میں سنہ 2009 میں بھی فسادات ہوئے تھے جن میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت ہان قوم کی تھی۔

سنکیانگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان فسادات کی خبروں کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے۔ اس خطے میں غیر ملکی صحافیوں کو سفر کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم خبروں کی تصدیق کے لیے انھیں اکثر اوقات ہراساں کیا جاتا ہے۔

سنکیانگ میں حکومتی پروپگینڈا ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ہوہینمن کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والے فسادات اس وقت شروع ہوئے جب امدادی کارکنوں نے اسلحہ ڈھونڈنے کے لیے گھروں کی تلاشی لی۔

انھوں نے بی بی سی چائنا سروس کو بتایا کہ تین کارکن اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ایک مقامی شخص کے گھر میں مشتبہ اطلاعات کی تفتیش کر رہے تھے۔

دریں اثنا چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہُوا چُن یِنگ کا کہنا ہے کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے اس حملے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ سنکیانگ میں سکیورٹی کی صورت حال مجموعی طور پر بہتر ہے تاہم چند دہشت گرد سنکیانگ کے استحکام اور ترقی کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں