’پانچ سو یورپی شام میں لڑ رہے ہیں‘

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سینکڑوں یورپی شام میں باغیوں کے ہمراہ صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ کے اندازے کے مطابق شام میں باغیوں کے ہمراہ لڑنے والے یورپی افراد کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔

انٹیلیجنس ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ ان میں سے کئی افراد القاعدہ میں شامل ہو سکتے ہیں اور یورپ واپس لوٹ کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

شام میں جن یورپی ممالک کے زیادہ باشندے ہیں ان میں یو کے، آئرلینڈ اور فرانس شامل ہیں۔

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’شام جانے سے قبل ان افراد میں سے کوئی بھی انتہا پسند نہیں تھا۔ لیکن جب وہ واپس آئیں گے تو ممکنہ طور پر وہ انتہا پسندی کی جانب راغب ہو چکے ہوں گے اور تربیت یافتہ بھی ہوں گے۔ اور ہمیں یہ لگتا ہے کہ وہ ایک بڑا خطرہ ہوں گے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ڈنکن کروفرڈ کا کہنا ہے کہ یورپ بھر میں انٹیلیجنس ایجنسیوں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

برطانیہ اور بیلجیئم میں ایجنسیاں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ افراد بھرتی کیسے کیے جاتے ہیں۔

نیدرلینڈز میں حکام نے دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بلند کردیا ہے کیونکہ انتہا پسند شہری واپس ملک آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں