برمنگھم حملے کی منصوبہ بندی پر11 کو سزا

عرفان نصیر، عرفان خالد اور عاشق علی
Image caption تینوں کا منصوبہ گیارہ ستمبر سے بھی بڑا حملہ کرنے کا تھا

برطانیہ کی ایک عدالت نے برمنگھم شہر میں دہشتگردی کا منصوبہ بنانے کے جرم میں گيارہ افراد کو قید کی سزا سنائي ہے۔

قصورواروں پر الزام تھا کہ وہ لندن میں سات جولائی اور نائن الیون کے طرز پر شہر میں حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

حملے کی منصوبہ بندی کرنے والےگروپ کے لیڈر عرفان ناصر، عرفان خالد اور عاشق علی تھے۔ اکتیس سالہ عرفان ناصر کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے جنہیں کم سے کم اٹھارہ برس جیل میں رہنے کی سزادی گئي ہے۔

اٹھائیس سالہ عرفان خالد کو اٹھارہ برس قید کی سزا جبکہ عاشق علی کو پندرہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جمعہ کو عدالت نے اس معاملے کو آٹھ دیگر ملزمان کو بھی سزائیں سنائیں۔ رحیم احمد کو بارہ برس کی سزا سنائی گئی۔ عاشق علی کے بھائی بہادر کو چھ برس کی سزا دی گئی ہے۔ محمد رضوان اور مجاہد حسین کو بالترتیب چار چار برس جیل کی سزا ملی ہے۔

اس گروپ کے ديگر چار ارکان، اسحاق حسین، شاہد خان، نوید علی اور خبیب حسین، جنہوں نے شدت پسندی کی تربیت کے لیے پاکستان کا دورہ تو کیا تھا لیکن منصوبہ انجام دینے سے متعلق ان کا خيال بدل گيا تھا ان سب کو چالیس ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس گروپ نے ٹائمرز کے ذریعے آٹھ بم دھماکے کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

جسٹس ہینرق نے فیصلہ سناتے ہوئے ناصر سے کہا ’آپ کے منصوبے کو القاعدہ کی مدد حاصل تھی اور آپ کی نیت القاعدہ کے مقاصد کو اور آگے بڑھانا تھا۔‘

جج نے ناصر کو بم بنانے کا ماہر بتاتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے پیچھے وہی سرگرم سرغنہ تھے۔’ کوئی بھی چیز تمہیں روک نہیں سکتی تھی بس حکام ہی بیچ میں آگئے۔‘

اس سے قبل فروری میں عدالت نے گروپ کے تینوں رہنماؤں کو دہشت گردی کی کارروائي کے لیے قصوروار قرار دیا تھا۔ انہیں ستمبر دو ہزار گیارہ میں گرفتار کیا گيا تھا۔

ناصر اور خالد نے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے القا‏عدہ سے تربیت حاصل کی تھی اور برطانیہ واپسی سے پہلے اس حوالے سے کئي ویڈیو ریکارڈ کیے تھے۔

ان لوگوں نے اپنے ساتھ دوسروں کو ملاکر برمنگھم کی گلیوں میں خیراتی کام کے لیے رضا کار کے طور پر پیش کیا اور لوگوں سے چندے کی شکل میں خوب پیسہ جمع کیا۔ اسی پیسے سے بعض لوگوں کو تربیت دینے کے لیے پاکستان بھیجا گیا تھا۔

اسی بارے میں