شام:’کیمیائی ہتھیاروں کے محدود مگر بڑھتے ہوئے ثبوت‘

Image caption اطلاعات کے مطابق شام نے حلب میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ شام میں حکومتی افواج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ’محدود‘ ثبوت ملے ہیں تاہم ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’یہ انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے۔ یہ تو جنگی جرم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی اس تنبیہ سے متفق ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال وہ ’سرخ لکیر‘ ہے جسے پار کرنے پر شام میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والی خفیہ رپورٹوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات تو ملی ہیں لیکن اس استعمال کے ثبوت نہیں مل سکے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ’یقین کے مختلف درجوں‘ سے خیال ظاہر کیا ہے کہ شام نے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شام نے ’چھوٹے درجے پر‘ کیمیائی عامل سارِن گیس استعمال کی ہے، تاہم یہ نہیں بتایا کہ کہاں اور کب۔

کانگریس میں رپبلکن پارٹی کے ارکان نے جمعرات کو کانگریس کی جانب سے سخت ردِعمل کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ تخمینہ جمعرات کو قانون سازوں کو ایک خط میں پیش کیا گیا تھا جس پر وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے قانونی امور مگیل روڈریریگز کے دستخط تھے۔

ایک خط میں کہا گیا تھا، ’ہمارے انٹیلی جنس اداروں نے یقین کے مختلف درجوں کے ساتھ تخمینہ لگایا ہے کہ شامی حکومت نے چھوٹے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں، خاص طور پر سارن گیس۔‘

تاہم خط میں آگے چل کر لکھا گیا ہے، ’معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر، اور جو ہم نے اپنے حالیہ تجربات سے سیکھا ہے، صرف انٹیلی جنس کے تخمینے ہی کافی نہیں ہیں۔ ہماری فیصلہ کرنے کی صلاحیت کی رہنمائی صرف قابلِ اعتبار اور تصدیق شدہ حقائق ہی کریں گے۔‘

’یقین کے مختلف درجے‘ کا فقرہ عام طور پر انٹیلی جنس اداروں کے نظریات میں اختلاف کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ادھر جمعرات کو ابوظہبی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے وزیرِدفاع چک ہیگل نے کہا تھا کہ سارِن کا استعمال جنگ کے تمام قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

امریکی وزیرِخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شام میں دو مواقع پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔

برطانوی وزارتِ خارجہ نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ’مختلف ذرائع سے حاصل کردہ محدود مگر موثر معلومات موجود ہیں۔‘

خیال ہے کہ برطانیہ نے شام سے نمونے حاصل کیے ہیں جنھیں ایک دفاعی تجربہ گاہ میں ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا، ’شام سے حاصل کردہ مواد میں سارن پائی گئی ہے۔‘

اندازہ ہے کہ شام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری میں اس ذخیرے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

شام کی حکومت نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

اسی بارے میں